LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مہنگائی کا نیا طوفان، ہفتہ وار شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی

News Image
پاکستان میں جاری مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 9.11 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان میں جاری شدید معاشی مشکلات کے درمیان مہنگائی کا ایک اور طوفان امڈ آیا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 9.11 فیصد کا نمایاں اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قیمتوں کا یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی بھی متوسط اور نچلے طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگائی کی اس حالیہ لہر نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے اور حکومت کے لیے معاشی چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی میں ہونے والا یہ اضافہ بنیادی طور پر اشیائے خوردونوش، بجلی کے نرخوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل بڑھتی ہوئی یہ شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملکی معیشت ابھی تک استحکام کی جانب گامزن نہیں ہو سکی ہے۔ خوراک کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے گھروں کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے ملک بھر میں عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کی یہ رفتار اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی کی سالانہ شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ بنیادی ضرورت کی اشیاء پر سبسڈی دی جائے تاکہ غریب طبقہ ان مشکل حالات میں کچھ ریلیف حاصل کر سکے۔ اس وقت ملک کو درپیش چیلنجز میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا حکومتی معاشی ٹیم کے لیے سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں اور کرنسی کی قدر میں کمی نے بھی مہنگائی میں اضافے کے لیے ایندھن کا کام کیا ہے۔ کاروباری طبقے کا بھی یہی موقف ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں کو کم رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر ملک کی معاشی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار معاشی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کو مہنگائی کے اس گرداب سے نکالا جا سکے اور ملک میں معاشی استحکام کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔