LIVE
Loading Breaking News...

پر سکون زندگی اور موت کی تیاری کیسے کریں؟ ماہرانہ مشورے

News Image
اس خصوصی گفتگو میں زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارنے اور موت کے تصور کو قبول کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پروگرام میں شرکاء نے بغیر کسی پچھتاوے کے ریٹائرمنٹ اور اپنے انجام کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی پر بات کی ہے۔
جدید دور کی بھاگ دوڑ میں انسان اکثر اپنی زندگی کے مقصد کو بھول جاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے مرحلے کو محض ایک خوف یا غیر یقینی صورتحال کے طور پر دیکھتا ہے۔ حال ہی میں نشر ہونے والے ایک خصوصی پوڈکاسٹ پروگرام 'ایس ایم جے 009' میں جوئیل اور اپریل شلوٹر نے اس موضوع پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ زندگی کو توازن کے ساتھ گزارنا اور اپنے انجام یعنی موت کے بارے میں حقیقت پسندانہ سوچ رکھنا کوئی منفی عمل نہیں بلکہ یہ انسان کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسان کو بغیر کسی جرم کے احساس یا پچھتاوے کے ریٹائرمنٹ کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ اس گفتگو کا سب سے اہم پہلو موت کے تصور کو قبول کرنا ہے۔ بہت سے لوگ موت کے خیال سے گھبراتے ہیں، لیکن اپریل شلوٹر کا کہنا ہے کہ موت کے بارے میں اکثر سوچنا ایک عجیب سا اطمینان فراہم کرتا ہے۔ یہ سوچ انسان کو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ اسے اپنا وقت کن لوگوں اور کن کاموں پر صرف کرنا چاہیے۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ وقت محدود ہے، تو آپ زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کو بہتر طور پر جینے کی کوشش کرتے ہیں اور غیر ضروری تناؤ سے دور رہتے ہیں۔ یہ فلسفہ انسان کو ایک بامقصد زندگی کی تعمیر کرنے میں مدد دیتا ہے، جہاں وہ اپنے انجام کی منصوبہ بندی خود کرتا ہے۔ پروگرام کے دوران ہلکے پھلکے انداز میں کئی دلچسپ واقعات بھی بیان کیے گئے۔ جوئیل نے اپنے دھوپ سینکنے کی عادت سے جڑا ایک مزاحیہ واقعہ شیئر کیا جس کی وجہ سے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی تھی۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سنجیدہ موضوعات پر بھی خوشگوار انداز میں بات کی جا سکتی ہے۔ دراصل، زندگی کو ڈیزائن کرنا ایک فن ہے؛ اس میں کامیابی تب ملتی ہے جب آپ اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو اپنے اخلاقی اقدار اور مستقبل کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں۔ آخر میں، مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر مرحلے کا استقبال مسکراہٹ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ خواہ وہ ریٹائرمنٹ کا دور ہو یا زندگی کے آخری ایام، تیاری اور ذہنی آمادگی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں سکون اور اطمینان بخشتا ہے۔ یہ گفتگو سننے والوں کے لیے ایک بہترین یاددہانی ہے کہ زندگی کا لطف اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کے اختتام کی ذمہ داری قبول کرنا بھی زندگی کو مکمل بنانے کا ایک حصہ ہے۔