Business
یو اے ای کے خود مختار فنڈز کی کرپٹو مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی حالیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے خود مختار فنڈز نے بلیک راک کے بٹ کوائن ای ٹی ایف میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ اقدام کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرکاری سطح پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور طویل المدتی حکمت عملی کا عکاس ہے۔
متحدہ عرب امارات کے خود مختار ویلتھ فنڈز کی جانب سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ حال ہی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بڑے سرکاری فنڈز نے دنیا کی سب سے بڑی اثاثہ جات مینجمنٹ کمپنی 'بلیک راک' (BlackRock) کے بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF) میں مجموعی طور پر 764 ملین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ پیش رفت ڈیجیٹل اثاثوں کے عالمی مالیاتی نظام میں انضمام کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی ممالک کے سرکاری ادارے اب روایتی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسیوں کو بھی اپنے پورٹ فولیو کا ایک اہم حصہ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ بٹ کوائن ای ٹی ایف میں اس قسم کی بڑی سرمایہ کاری نہ صرف کرپٹو کرنسی کی ساکھ کو مستحکم کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ کرپٹو اثاثے اب ایک سنجیدہ اور طویل المدتی مالیاتی آلے کے طور پر تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ بلیک راک کا بٹ کوائن ای ٹی ایف، جسے 'آئی شیئرز بٹ کوائن ٹرسٹ' کہا جاتا ہے، پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں بہت مقبول ہے اور اب متحدہ عرب امارات جیسے طاقتور معاشی قوتوں کا اس میں شامل ہونا اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس اقدام سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز میں سرفہرست رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ اگرچہ کرپٹو مارکیٹ کو اکثر اتار چڑھاؤ کا شکار سمجھا جاتا ہے، لیکن سرکاری فنڈز کی جانب سے اس سطح پر کی جانے والی سرمایہ کاری ثابت کرتی ہے کہ اب بڑے مالیاتی ادارے بٹ کوائن کو سونے جیسے محفوظ اثاثے کے متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ مستقبل قریب میں دیگر خود مختار فنڈز کی جانب سے بھی اسی طرز پر کرپٹو کرنسی کی طرف رجوع کرنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں مزید بہتری اور استحکام آنے کی توقع ہے۔