Technology
ARISS کو بین الاقوامی سطح پر چیلنجر-7 ایوارڈ سے نوازا گیا
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کام کرنے والے ادارے ARISS کو خلابازوں کے مشن اور ان کی قربانیوں کی یاد میں چیلنجر-7 ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان تنظیموں کو دیا جاتا ہے جو خلائی سائنس اور تحقیق کے فروغ میں نمایاں خدمات سرانجام دیتی ہیں۔
ایمچور ریڈیو آن دی انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، جسے مختصراً ARISS کہا جاتا ہے، نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے انتہائی باوقار 'چیلنجر-7' اعزاز (Challenger-7 Recognition) حاصل کر لیا ہے۔ یہ قومی اعزاز ان مخصوص تنظیموں کو دیا جاتا ہے جن کا کام اور خدمات خلائی شٹل چیلنجر کے سات بہادر خلابازوں کے مشن، ان کے وژن اور ان کی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اعزاز کا مقصد ان افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اپنی خدمات کے ذریعے انسانیت کے لیے خلائی سائنس کے دروازے کھولنے اور نئی نسل کو تحقیق کی ترغیب دینے میں پیش پیش ہیں۔
ARISS ایک ایسا بین الاقوامی منصوبہ ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے طلباء کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر موجود خلابازوں سے براہِ راست ریڈیو کے ذریعے بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس ادارے کی خدمات صرف ریڈیو رابطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے طلباء میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے مضامین میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ چیلنجر-7 ایوارڈ کا حصول اس بات کی تصدیق ہے کہ ARISS نے خلائی میدان میں تعلیمی و تکنیکی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
اس موقع پر ماہرین نے ARISS کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم جس جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے، وہ خلائی مہم جوئی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ اعزاز صرف ایک ایوارڈ نہیں بلکہ ان سات خلابازوں کے لیے خراجِ تحسین ہے جنہوں نے اپنی جانیں دے کر خلائی سفر کے سفر کو مزید آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پہچان انہیں مستقبل میں مزید تندہی اور جوش و جذبے کے ساتھ اپنے تعلیمی مشن کو جاری رکھنے کے لیے تقویت فراہم کرے گی، تاکہ مزید نوجوانوں کو کائنات کے اسرار و رموز سمجھنے کی ترغیب دی جا سکے۔
واضح رہے کہ ARISS کے نیٹ ورک میں دنیا بھر کے رضاکار شامل ہیں جو اپنی تکنیکی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خلائی اسٹیشن سے زمین پر موجود طلباء تک آواز پہنچ سکے۔ یہ اعزاز حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ رضاکارانہ جذبہ اور سائنسی سوچ مل کر کس طرح انسانیت کو ایک نئی بلندی پر لے جا سکتے ہیں۔