Technology
امریکی حکومتی خریداری میں چینی مصنوعات کی امریکی لیبل کے ساتھ فروخت پر تحقیقات
امریکی وفاقی ایجنسی کے پروکیورمنٹ پروگرام میں چین میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو غلط طریقے سے 'میڈ ان یو ایس اے' کے لیبل کے ساتھ فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جی ایس اے نے اس سنگین خلاف ورزی کے بعد ایک وسیع تحقیقاتی جائزے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکہ کی ایک آزاد وفاقی ایجنسی اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے جب یہ انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی پروکیورمنٹ پروگرام کے تحت خریدی جانے والی ٹیکنالوجی کی مصنوعات، جو حقیقت میں چین میں تیار کی گئی تھیں، انہیں غلط طور پر 'میڈ ان یو ایس اے' یعنی امریکہ میں تیار شدہ کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد جی ایس اے (GSA) نے ایک وسیع پیمانے پر تحقیقاتی جائزے کا حکم دے دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کتنی مصنوعات اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ہیں اور اس عمل میں ملوث ذمہ دار کون ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ٹیکنالوجی حساس نوعیت کی ہو سکتی ہے جس کا سرکاری خریداری کے عمل میں شامل ہونا سکیورٹی خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کی غلط بیانی نہ صرف امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر جب معاملہ چینی ساختہ ٹیکنالوجی کا ہو جس پر امریکہ پہلے ہی سخت نگرانی رکھتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپلائی چین کے ہر مرحلے کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے۔ جی ایس اے کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایجنسی اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور تمام تر ٹھیکیداروں کے ریکارڈز کو دوبارہ جانچا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری خریداری کے معیارات پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سپلائی چین میں شفافیت کا فقدان کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں وفاقی خریداری کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا تاکہ کسی بھی غیر ملکی مصنوعات کو مقامی لیبل کے ساتھ فروخت کرنے کے عمل کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ اس سارے معاملے نے امریکی انتظامیہ کی خریداری کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں کہ آیا مقامی صنعت کو فروغ دینے کے نام پر ہونے والے ان اقدامات میں کتنا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنے پر ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی متوقع ہے۔