World
مشرق وسطیٰ: یو ایس ایس واشنگٹن کی آمد، یو ایس ایس لنکن کی واپسی متوقع
امریکی بحریہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر یو ایس ایس واشنگٹن کو خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت یو ایس ایس لنکن پر عملے کو درپیش مشکلات اور جاری جنگی حالات کے تناظر میں ہوئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں، امریکی محکمہ دفاع نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس واشنگٹن کو اس خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ خطے میں اپنی موجودگی کو مستحکم رکھنے اور اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ یو ایس ایس واشنگٹن کی آمد کا بنیادی مقصد یو ایس ایس لنکن کی جگہ لینا ہے جو طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے سمندری حدود میں تعینات ہے۔
ذرائع کے مطابق یو ایس ایس لنکن پر تعینات عملے کو گزشتہ کچھ عرصے سے شدید دباؤ اور نامساعد حالات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے جہاز کی تبدیلی کو ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری غیر مستحکم حالات کے باعث امریکی بحریہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ترین آلات اور تازہ دم دستوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھے۔ یو ایس ایس لنکن، جو کافی عرصے سے اس خطے میں مصروف عمل ہے، اب اپنی ذمہ داریاں یو ایس ایس واشنگٹن کے سپرد کر کے واپسی کے لیے تیار ہے۔
یہ تبدیلی امریکی عسکری حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خطے میں طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ یو ایس ایس واشنگٹن کی شمولیت سے امریکی بحری طاقت میں اضافہ ہوگا، جبکہ یو ایس ایس لنکن پر موجود عملے کی واپسی سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے مواقع ملیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں یہ فوجی ردوبدل ایران اور اس کے اتحادیوں کو ایک واضح پیغام دینے کے مترادف ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے خطے کی سکیورٹی کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یو ایس ایس واشنگٹن علاقے میں امریکی بحری مشن کی قیادت سنبھال لے گا۔ یو ایس ایس لنکن کی واپسی اور نئے جہاز کی تعیناتی کے عمل کو بحری عسکری ماہرین انتہائی حساس اور اہم قرار دے رہے ہیں، جس پر عالمی طاقتوں کی بھی گہری نظر ہے۔