LIVE
Loading Breaking News...

چین اور حوثیوں کے درمیان بحیرہ احمر کی صورتحال پر مذاکرات

News Image
ذرائع کے مطابق چین بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے یمن کے حوثی باغیوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔ اس سفارتی کوشش کا مقصد خطے میں جاری توانائی اور تجارتی بحران پر قابو پانا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین کی جانب سے یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ براہ راست رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستے سے چینی اور دیگر تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ مہینوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے اس تجارتی روٹ پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی معیشت بالخصوص توانائی کے شعبے کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس راستے کو بحال کرانے کے لیے سفارتی ذرائع کا بھرپور استعمال کر رہا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی یہ کوششیں نہ صرف اس کے اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں بلکہ یہ عالمی تجارت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بحیرہ احمر کا یہ تجارتی راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں تیل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس صورتحال میں چینی مداخلت کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ حوثی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بحری جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یمنی حکام اور بین الاقوامی مبصرین اس پیش رفت کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، تاہم حوثیوں کی جانب سے تادم تحریر اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ طے پانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری بھی خطے میں پائیدار امن اور جہاز رانی کی آزادی کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راہیں تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔