LIVE
Loading Breaking News...

اے جے کے الیکشن کمیشن کا فیصلہ: راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی برقرار

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے حلقہ ایل اے-17 سے وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کو چیلنج کرنے والی دو درخواستیں کثرت رائے سے خارج کر دی ہیں۔ کمیشن کے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ انتخابی تنازعات کے حل کے لیے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنا قانونی راستہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے ایک اہم فیصلے میں حلقہ ایل اے-17 (حویلی) سے وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کو چیلنج کرنے والی دو اہم درخواستوں کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل اور سینئر رکن محمد احسن کی جانب سے سنایا گیا، جبکہ کمیشن کے رکن سید نذیر الحسن گیلانی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ درخواست گزاروں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز اور آزاد امیدوار خواجہ طارق سعید شامل تھے، جنہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نتائج میں ہیر پھیر کے الزامات عائد کیے تھے۔ کمیشن کے اکثریتی فیصلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ معاملات حقائق پر مبنی ہیں جنہیں صرف الیکشن ٹربیونل کے سامنے شہادتیں ریکارڈ کر کے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا کہ 21 پولنگ اسٹیشنوں پر ریٹرننگ آفیسر کے نتائج اور پولنگ ایجنٹس کو دیے گئے فارم 24 کے درمیان واضح تضاد پایا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے ووٹوں میں 1,133 کی کٹوتی کی گئی جبکہ راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے ووٹوں میں 3,095 کا اضافہ کیا گیا، جس کے لیے مبینہ طور پر جعلی فارمز کا سہارا لیا گیا۔ اس کے برعکس، ریٹرننگ آفیسر نے اپنے بیان میں ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کا عمل بلا تعطل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا اور کسی بھی امیدوار نے پولنگ کے دوران کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولنگ بیگز اور فارمز فوجی حکام کی سیکیورٹی میں وصول کیے گئے اور ان کی کنسولیڈیشن کے وقت پولنگ ایجنٹس اور صحافی موجود تھے۔ کمیشن کے رکن سید نذیر الحسن گیلانی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے فارم 24 کے ریکارڈ سے جعل سازی کے شواہد واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کرائے گئے فارمز پر دستخط اور لکھائی میں تضاد پایا گیا ہے، جس کی بناء پر انہوں نے ریٹرننگ آفیسر کو متنازعہ پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج دوبارہ مرتب کرنے کا حکم دینے کی تجویز دی۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے اکثریتی قوانین کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے رکن کی رائے غالب رہی، جس کے بعد راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کا نوٹیفکیشن برقرار رکھا گیا۔ آخر میں، کمیشن نے واضح کیا کہ انتخابی قوانین کے سیکشن 66(5) کے تحت دوبارہ گنتی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب پولنگ کے دوران باضابطہ شکایت کی گئی ہو۔ چونکہ مذکورہ کیس میں ایسا نہیں کیا گیا، اس لیے کمیشن نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تحفظات کے لیے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کریں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی سیٹ پر قانونی کشمکش کا یہ باب فی الحال بند ہو گیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔