Technology
بچوں کے تحفظ کے لیے بھارت اور امریکا کا ممکنہ ڈیٹا شیئرنگ معاہدہ
بھارت بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کے خلاف تحقیقات کو تیز کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک باقاعدہ ڈیٹا شیئرنگ معاہدہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات کے حصول میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اٹھایا جائے گا۔
بھارت نے آن لائن بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM) کے خلاف اپنی تحقیقاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور مجرموں تک پہنچنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک باقاعدہ ڈیٹا شیئرنگ معاہدے کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی قانونی ڈھانچہ اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی پالیسیاں اکثر تحقیقات میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں، جس کے تدارک کے لیے دوطرفہ سطح پر نئے معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی تفتیشی ادارے آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فی الحال، امریکی سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی پالیسیوں کے تحت بچوں کے جنسی استحصال کی رپورٹس کو نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (NCMEC) کو بھیجنے کی پابند ہیں، جس کے بعد قانونی تقاضوں کو پورا کیا جاتا ہے۔ تاہم، بھارت کو اکثر ان رپورٹس کے حصول اور قانونی کارروائیوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ NCMEC کے سائبر ڈیٹا کے حصول کا عمل کافی پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ بھارتی حکومت اس عمل کو تیز کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک ایسے طریقہ کار پر کام کرنا چاہتی ہے جس کے تحت ڈیٹا کا تبادلہ تیز ہو سکے اور مجرموں کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
اس معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی کمپنیاں اپنی قانونی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کی پابند ہیں، جبکہ بھارت اپنی سائبر سکیورٹی قوانین کو ان بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف تفتیشی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی بچوں کے خلاف مواد ہٹانے اور ملزمان کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کو آن لائن دنیا میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر سائبر قوانین کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔