LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ایف سی سی کی ڈرون پابندیوں کے ٹیکنالوجی مارکیٹ پر اثرات

News Image
امریکی حکام کی جانب سے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی پابندیاں عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف گیجٹس کو مہنگا بنائیں گے بلکہ ان کی دستیابی بھی ناممکن ہو سکتی ہے۔
ڈرونز کی ٹیکنالوجی کو ماضی میں ایک ابتدائی اشارہ سمجھا جاتا تھا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کے خلاف شروع کی گئی موجودہ مہم اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ آپ کے روزمرہ کے استعمال میں آنے والے گیجٹس یا تو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگے ہو جائیں گے یا پھر ان کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔ ایک لائسنس یافتہ ڈرون پائلٹ کی حیثیت سے، جس نے ایک دہائی قبل اس شعبے میں قدم رکھا تھا، موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کا فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) اب غیر ملکی ساختہ ٹیکنالوجی کے خلاف ایک وسیع تر جنگ لڑ رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات عام صارفین کی جیب پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سیاسی مداخلت اور پابندیوں کا یہ سلسلہ ایک 'خطرناک رجحان' ہے۔ جب مارکیٹ سے مقابلے کی فضا ختم کر دی جاتی ہے اور چند مخصوص کمپنیوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، تو اس کا حتمی نتیجہ اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس صورتحال کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ ان پابندیوں کی زد میں آنے والے آلات صرف ڈرونز تک محدود نہیں رہیں گے۔ ٹیکنالوجی کی سپلائی چین اتنی پیچیدہ ہے کہ کسی ایک حصے پر پابندی لگانے سے پوری انڈسٹری متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ پالیسیاں اسی طرح جاری رہیں تو صارفین کو جدید سہولیات اور سستے گیجٹس سے محروم ہونا پڑے گا۔ مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری میں وقت لگتا ہے اور جب تک وہ عمل مکمل نہیں ہوتا، صارفین کو شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر میں، ٹیکنالوجی کے ماہرین کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کو سیاست سے الگ رکھنا ہی صارفین کے مفاد میں ہے۔ پابندیوں کا یہ 'غیر کنٹرول شدہ' سلسلہ نہ صرف اختراع (Innovation) کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ یہ عالمی ٹیکنالوجی منڈی کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکی انتظامیہ ٹیکنالوجی کی آزادی اور ملکی سکیورٹی کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔