LIVE
Loading Breaking News...

توتنخامون کے قدیم بگل اور ان کی پراسرار تاریخ

News Image
مصر کے قدیم بادشاہ توتنخامون کے مقبرے سے ملنے والے قدیم ترین بگلوں نے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ سن 1939 میں ایک برطانوی موسیقار نے بی بی سی کے براہ راست نشریاتی پروگرام کے دوران ان بگلوں کو بجانے کی کوشش کی جس کے بعد کئی پراسرار واقعات پیش آئے۔
مصر کے قدیم بادشاہ توتنخامون کے مقبرے سے دریافت ہونے والی اشیاء میں سے دو دھاتی بگل سب سے زیادہ تجسس کا باعث بنے رہے ہیں۔ یہ بگل دنیا میں موجود قدیم ترین دھاتی آلات موسیقی میں شمار ہوتے ہیں جنہیں سن 1922 میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے مقبرے کی کھدائی کے دوران دریافت کیا تھا۔ ان میں سے ایک بگل چاندی کا اور دوسرا تانبے اور کانسی کا بنا ہوا ہے، جن پر قدیم مصری دیوتاؤں کے نقوش کندہ ہیں۔ ان بگلوں کی دریافت کے بعد سے ہی ان کے گرد پراسرار کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں، جنہیں اکثر 'مردوں کے অভिशाپ' سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سترہ سال بعد، سن 1939 میں جب دنیا دوسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی تھی، بی بی سی نے قاہرہ سے ایک براہ راست نشریات کا اہتمام کیا جس کا مقصد ان قدیم بگلوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانا تھا۔ اس تاریخی اور پرخطر کام کے لیے ایک برطانوی فوجی بینڈ کے موسیقار جیمز جیمزلے کا انتخاب کیا گیا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ ہزاروں سال سے خاموش یہ بگل ایک بار پھر اپنی آواز سنائیں گے، لیکن اس تجربے کے نتائج توقع کے برعکس ثابت ہوئے۔ جیسے ہی موسیقار نے بگل میں پھونک ماری، اس کا منہ دھاتی دباؤ برداشت نہ کر سکا اور وہ ٹوٹ گیا، جس سے وہاں موجود لوگوں میں ایک سنسنی پھیل گئی۔ اس واقعے کے بعد سے ہی یہ بات مشہور ہو گئی کہ قدیم شاہی ورثے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ اس نشریات کے کچھ عرصہ بعد ہی عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور جنگ عظیم دوم کا آغاز ہو گیا۔ اگرچہ مورخین اسے محض ایک اتفاق قرار دیتے ہیں، لیکن آج بھی ماہرین آثار قدیمہ ان بگلوں کو بہت احتیاط اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ بگل آج قاہرہ کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش اور پراسرار نوادرات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بگلوں کی ساخت اس دور کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ ان کی آواز کو محفوظ کرنا ایک دلچسپ تجربہ تھا، مگر ان کا ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم اشیاء کا تقدس برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔ آج یہ بگل صرف موسیقی کے آلات نہیں بلکہ قدیم مصری تہذیب کی عظمت اور ان کے عقائد کے امین ہیں جو ہزاروں سال بعد بھی انسانی عقل کو حیران کر رہے ہیں۔