Business
امریکی ملازمین کی مہارتوں میں بہتری اور تعطل: نئی رپورٹ
ای ٹی ایس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 78 فیصد امریکی ملازمین ملازمت کے تحفظ کے لیے مسلسل سیکھنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ تاہم، عملی تربیت کے حوالے سے امریکی کارکنان عالمی سطح پر اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
پرنسٹن، نیو جرسی میں جاری ہونے والی 2026 ای ٹی ایس ہیومن پروگریس رپورٹ کے تازہ ترین ایڈیشن نے امریکی لیبر مارکیٹ کے ایک تشویشناک پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ورک فورس کا ایک بڑا حصہ، یعنی 78 فیصد ملازمین، اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ موجودہ دور میں ملازمت کا تحفظ تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی صلاحیتوں میں مسلسل تبدیلی لائیں اور نئی مہارتیں سیکھتے رہیں۔ اس احساس کے باوجود کہ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور کام کے نئے انداز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے، عملی طور پر اقدامات کرنے میں ایک قسم کا تعطل (Adaptability Paralysis) پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ ملازمین اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے درکار ٹھوس کوششوں میں عالمی سطح کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 'ایڈاپٹیبلٹی پیرالائسس' یعنی تبدیلی سے متعلقہ تعطل کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سمت کا تعین اور ترجیحات کا درست نہ ہونا ہے۔ امریکی کارکنان یہ تو مانتے ہیں کہ روایتی مہارتیں اب کافی نہیں رہیں، مگر وہ مسلسل سیکھنے اور اپ اسکلنگ (upskilling) کے عمل میں درکار وقت اور توانائی لگانے سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی معیشت اور کاروباری اداروں کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے تیزی سے خود کو ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکی لیبر فورس کی عالمی مارکیٹ میں اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ کاروباری اداروں اور حکومت دونوں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے تربیت کے مواقع نہ صرف فراہم کریں بلکہ انہیں سیکھنے کے عمل میں شامل ہونے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کریں۔ ای ٹی ایس کی جانب سے یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی ورک فورس کو نہ صرف اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے بلکہ عملی میدان میں تیزی سے آگے بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اگرچہ 78 فیصد ملازمین کا یہ ماننا ایک اچھا شگون ہے کہ تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن اس فکر کو عمل میں بدلنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔