LIVE
Loading Breaking News...

پھیپھڑوں کے کینسر کا علاج: سوزش کو روکنے والی نئی دوا کے طبی امکانات

News Image
ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک ایسے اینزائم کو دریافت کیا ہے جو پھیپھڑوں میں سوزش کا باعث بنتا ہے اور کینسر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ اس اینزائم کو روکنے والی دوا پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار ہونے کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین صحت اور طبی تحقیق کے عالمی مرکز ایم آئی ٹی (MIT) کے سائنسدانوں نے پھیپھڑوں کے کینسر کے خاتمے اور اس سے بچاؤ کی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق انسانی پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرنے والا ایک خاص اینزائم 'کیسپیس-1' (Caspase-1) کینسر کے خلیات بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ محققین نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگر اس اینزائم کی سرگرمیوں کو کسی دوا کے ذریعے بلاک یا محدود کر دیا جائے تو جسم میں ٹیومر بننے کے امکانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ نئی دریافت ان افراد کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر کے انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے تجرباتی طور پر یہ ثابت کیا کہ جسم میں ہونے والی سوزش براہ راست کینسر کے خلیات کی نشوونما کو فروغ دیتی ہے۔ جب 'کیسپیس-1' نامی اینزائم پھیپھڑوں کے ٹشوز میں سوزش کا باعث بنتا ہے، تو یہ خلیاتی سطح پر ایسی تبدیلیاں لاتا ہے جو کینسر جیسی مہلک بیماری کی بنیاد بنتی ہیں۔ دواؤں کے ذریعے اس اینزائم کے عمل کو روکنے کا مطلب یہ ہے کہ کینسر بننے کے ابتدائی عمل کو ہی جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف کینسر کے علاج بلکہ اس کی روک تھام کے حوالے سے بھی ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ان مریضوں کے لیے زیادہ کارآمد ہو سکتی ہے جنہیں جینیاتی عوامل یا ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ زیادہ لاحق ہوتا ہے۔ اگرچہ ابھی یہ ابتدائی طبی تحقیق کے مراحل میں ہے، لیکن اس کے نتائج مستقبل میں کینسر کے طبی معالجے کے طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔ طبی ماہرین اس پیش رفت کو کینسر پر قابو پانے کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس سے آئندہ برسوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کی شرح میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ اس پیش رفت کے بعد اب طبی برادری مزید کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کر رہی ہے تاکہ اس دوا کے انسانی جسم پر طویل مدتی اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو طبی سائنس میں پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی اور محفوظ دوا دستیاب ہوگی جو نہ صرف کینسر کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ مریضوں کی زندگی بچانے کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر سکے گی۔