Health
عمر رسیدگی اور بصارت سے محرومی: آزادانہ نقل و حرکت کیسے ممکن ہے؟
بصارت سے محروم افراد بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ نقل و حرکت میں درپیش مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لورا جیسی بصارت سے محروم خواتین اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے اور تنہائی سے بچنے کے لیے پرعزم ہیں۔
بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ جسمانی اور حسی صلاحیتوں میں کمی ایک فطری عمل ہے، لیکن بصارت سے محروم افراد کے لیے یہ مرحلہ انتہائی کٹھن ثابت ہوتا ہے۔ لورا کی کہانی، جو پیدائشی طور پر بصارت کے مسائل کا شکار ہیں، ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ زندگی کے پچھلے 15 برسوں میں ان کی ایک آنکھ کی محدود بینائی بھی تیزی سے ختم ہوئی ہے۔ لورا بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھریلو کام کاج، جیسے کہ کپڑے دھونا، تو کسی نہ کسی طرح کر لیتی ہیں، لیکن انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ آیا کپڑے مکمل طور پر صاف ہوئے ہیں یا نہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی محرومیاں درحقیقت کسی شخص کی آزادانہ زندگی میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں اور انہیں دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
نقل و حرکت یا موبلٹی کا چیلنج بصارت سے محروم افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لورا کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ اس مقام پر نہیں جانا چاہتیں جہاں انہیں اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر کسی دوسرے شخص کی مدد لینی پڑے۔ اس جدوجہد کے دوران وہ کئی جدید معاون ٹیکنالوجیز اور اپنی ہمت کو ہتھیار بنا رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خود کو گھر میں محدود کر لینا ڈپریشن اور تنہائی کا باعث بنتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے طریقے ڈھونڈے جائیں جن سے بزرگ اور بصارت سے محروم افراد معاشرے کا حصہ بنے رہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ نظر کا کمزور ہونا صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ نفسیاتی اور سماجی سطح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ لورا جیسی شخصیات کا عزم اس بات کی علامت ہے کہ جدید دور میں سہولیات، درست رہنمائی اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے نقل و حرکت کی آزادی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ان کی بینائی واپس نہیں آ سکتی، لیکن 'وائٹ کین' (سفید چھڑی) کی تربیت اور جدید اسسٹو ٹیکنالوجی کا استعمال انہیں ایک پروقار زندگی گزارنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ لورا کی کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ چاہے مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، زندگی کی ڈور کو تھامے رکھنا ہی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔