Politics
جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل جاری
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے خلاف اتوار کو ملک بھر میں گورنر ہاؤسز اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے مقرر کی جائے اور حکمرانوں کے مراعاتی کلچر کو فوری ختم کیا جائے۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف اتوار کو ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ منصورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں گورنر ہاؤسز کے باہر جبکہ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پرامن دھرنے دے گی۔ یہ دھرنے سہ پہر 4 بجے شروع ہوں گے اور ملک بھر سے کارکنان اپنے مطالبات کے حق میں ان مقامات تک مارچ کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ یہ احتجاج محنت کشوں، طلباء اور معاشرے کے دیگر پسماندہ طبقات کی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پرامن مظاہرین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں یا انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی تو یہ تحریک حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ملک بھر کے 510 مقامات پر پرامن احتجاج کیا گیا جس میں ایک پھول کا گملہ بھی نہیں ٹوٹا، اس لیے حکومت کو ہمارے پرامن انداز کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی ختم کر کے پیٹرول کی قیمت 225 روپے مقرر کرے۔ اس کے علاوہ روٹی کی قیمت 10 روپے جبکہ آٹے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ انہوں نے حکومتی اشرافیہ کے مراعاتی کلچر پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیوروکریٹس، ججز، وزراء اور مشیروں کی گاڑیوں کی انجن کی گنجائش 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مفت بجلی، گیس اور ایندھن جیسی شاہانہ سہولیات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے نہ کہ حکمرانوں کے پروٹوکول پر۔
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی اخراجات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کا خون نچوڑ کر اپنے اخراجات پورے کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیٹرول پر 130 روپے لیوی کے نام پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی اخراجات کا تخمینہ 800 ارب سے بڑھ کر ایک ٹریلین تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عوام آج اپنے حقوق کے لیے باہر نہیں نکلیں گے تو کب نکلیں گے؟ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ دھرنوں کے شروع ہونے کا وقت تو طے ہے لیکن ان کے اختتام کا فیصلہ حکومت کی ہٹ دھرمی پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومتی رویہ تبدیل نہ ہوا تو جماعت اسلامی کے پاس "پلان بی" تیار ہے جس کے تحت احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔