LIVE
Loading Breaking News...

کلاڈ اے آئی واٹر مارک کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

News Image
انتھروپک کمپنی نے اپنے اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ کے مواد میں واٹر مارک شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریروں کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر مارک کا نہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ مواد انسانی تحریر ہے۔
مشہور مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے چیٹ بوٹ 'کلاڈ' (Claude) کے ذریعے تیار کردہ مواد میں ڈیجیٹل واٹر مارکنگ کا نظام متعارف کروانے جا رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود مواد کی اصلیت اور اس کے ماخذ کو واضح کیا جا سکے تاکہ صارفین یہ جان سکیں کہ آیا کوئی مخصوص تحریر اے آئی سے تخلیق کی گئی ہے یا نہیں۔ واٹر مارکنگ کا یہ عمل ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مواد میں پوشیدہ نشانات چھوڑتی ہے جسے جدید سافٹ ویئر کے ذریعے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ماہرینِ ٹیکنالوجی اس حوالے سے بہت محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ واٹر مارک ایک مفید ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کی اپنی ایک حدود بھی ہیں۔ اگر کسی مواد میں واٹر مارک موجود ہو تو یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ اسے کلاڈ نے تیار کیا ہے، لیکن اگر کسی تحریر میں واٹر مارک نہ ملے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ تحریر صد فیصد انسانی تخلیق ہے۔ اے آئی ماڈلز کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ایسی بہت سی تکنیکیں موجود ہیں جو ان واٹر مارکس کو ختم یا تبدیل کر سکتی ہیں، جس سے شناخت کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر اے آئی پلیٹ فارمز کی جانب سے اپنایا جانے والا مواد اور کلاڈ کے واٹر مارکنگ کے طریقہ کار میں فرق ہو سکتا ہے۔ مواد کی تصدیق کرنے والے اداروں کو اب نئے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ صرف واٹر مارک پر انحصار کرنا ناکافی ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ نہ صرف واٹر مارک کو تلاش کر سکیں بلکہ تحریر کے انداز اور پیٹرنز کو بھی مدنظر رکھ سکیں۔ انتھروپک کا یہ اقدام شفافیت کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن صارفین اور محققین کو اس ٹیکنالوجی کو بطور حتمی ثبوت استعمال کرنے کے بجائے اسے صرف ایک معاون ٹول کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، اے آئی کی تخلیق کردہ تحریروں اور انسانی تحریروں کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہوتا جائے گا، جس کے لیے تکنیکی معیارات کے ساتھ ساتھ اخلاقی ضوابط کی بھی اشد ضرورت ہے۔