LIVE
Loading Breaking News...

مشی گن سینیٹ انتخابات: ایل سید کی مقبولیت اور دلچسپ سیاسی پیشگوئی

News Image
مشی گن سینیٹ کے حالیہ سروے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے جس میں سفید فام تعلیم یافتہ خواتین کی جانب سے ایل سید کو نمایاں برتری حاصل ہوئی ہے۔ یہ دلچسپ اعداد و شمار 2015 کے مشہور مزاحیہ شو ایس این ایل کے ایک سکیٹ کی یاد تازہ کر رہے ہیں جو اب غیر معمولی طور پر درست معلوم ہوتا ہے۔
امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے حالیہ انتخابی سروے نے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس پول کے نتائج میں سب سے زیادہ توجہ اس بات نے حاصل کی ہے کہ ایل سید کو سفید فام اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے درمیان غیر معمولی برتری حاصل ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان خواتین میں ایل سید کی مقبولیت کا تناسب 60 فیصد ہے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار صرف 37 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔ یہ 23 پوائنٹس کی واضح برتری کسی بھی امیدوار کے لیے ایک بڑا سیاسی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس انتخابی سروے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک پرانی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ سن 2015 میں نشر ہونے والے مشہور مزاحیہ شو 'سیٹرڈے نائٹ لائیو' (SNL) کا ایک پرانا سکیٹ اب غیر معمولی طور پر درست اور پیشگوئی کے مترادف محسوس ہو رہا ہے۔ اس وقت کے طنزیہ سکیٹ میں جن سیاسی رجحانات اور ووٹرز کے رویوں کی جھلک دکھائی گئی تھی، مشی گن کے حالیہ نتائج اس کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ووٹرز کے مزاج میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کا تسلسل ہے جو برسوں پہلے ایک مزاحیہ خاکے کے ذریعے پیش کی گئی تھی۔ ماہرینِ سیاسیات اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کا یہ جھکاؤ آنے والے عام انتخابات میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ مشی گن جیسی کلیدی ریاست میں ایل سید کا یہ مضبوط موقف نہ صرف ان کی اپنی مہم کو تقویت دے رہا ہے بلکہ یہ دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو مشی گن سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلے کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات قومی سطح پر امریکی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ مشی گن کے ووٹرز کا یہ رویہ امریکی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں سماجی مسائل اور ووٹرز کی تعلیم و شعور نے پارٹی وابستگیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2015 کے اس ایس این ایل سکیٹ کا اب سرخیوں میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی طنز اکثر حقیقت کی گہرائیوں کو کتنی باریک بینی سے سمجھ لیتا ہے۔ فی الحال، تجزیہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ 'پریسائنٹ' یعنی پیشگوئی پر مبنی سروے حتمی نتائج میں بھی اسی طرح کا اثر دکھا پائے گا یا نہیں۔