Technology
اے آئی کیلوری ٹریکنگ: کیا مصنوعی ذہانت آپ کی غذا کی درست پیمائش کر سکتی ہے؟
آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی کیلوری ٹریکنگ ایپس اب کھانے کی تصویر کھینچ کر ان میں موجود توانائی کا تخمینہ لگانے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم ماہرین اس ٹیکنالوجی کی درستگی اور اس کے سائنسی پہلوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں جب ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہے، فٹنس اور صحت کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت (AI) نے ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب آپ کو اپنے کھانے میں موجود کیلوریز کا حساب لگانے کے لیے کاپی پنسل کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف اپنے اسمارٹ فون کے کیمرے سے کھانے کی تصویر کھینچ کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایپس کی مدد سے چند سیکنڈز میں ان کیلوریز کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ایپس مشین لرننگ ماڈلز کا استعمال کرتی ہیں جو ہزاروں کھانوں کی تصاویر کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کر کے یہ بتاتی ہیں کہ آپ کی پلیٹ میں موجود غذا میں کتنی انرجی موجود ہے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار کرنا ابھی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک کیمرہ جو صرف کھانے کی ظاہری شکل دیکھ سکتا ہے، وہ اس کی اندرونی ساخت، اجزاء کی مقدار اور پکانے کے طریقے کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔ مثال کے طور پر، اگر دو کھانوں کی ظاہری شکل ایک جیسی ہو لیکن ایک میں تیل یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، تو اے آئی الگورتھم اکثر ان دونوں کے درمیان فرق کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ایپس کی جانب سے بتائے گئے کیلوریز کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے جو کہ وزن کم کرنے یا فٹنس کے اہداف حاصل کرنے والے افراد کے لیے گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اے آئی کیلوری ٹریکنگ فی الحال ایک ابتدائی مرحلے میں ہے جو صرف ایک عمومی اندازہ فراہم کر سکتی ہے، نہ کہ حتمی سائنسی ڈیٹا۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی صارفین کو اپنی غذا کے بارے میں شعور فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن غذائی ماہرین اسے مکمل طبی مشورے یا درست کیلوری کاؤنٹنگ کا متبادل قرار نہیں دیتے۔ مستقبل میں ان ایپس کو بہتر بنانے کے لیے مزید ڈیٹا اور جدید سینسرز کی ضرورت ہوگی جو کھانے کے وزن اور اجزاء کی کیمیائی ساخت کو درست طریقے سے جانچ سکیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صحت مند طرز زندگی صرف کیلوریز گننے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں غذائیت کا معیار اور متوازن خوراک شامل ہے۔ اگر آپ کسی فٹنس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں تو اسے صرف ایک رہنمائی کے طور پر دیکھیں اور کسی بھی بڑی تبدیلی سے قبل ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا زیادہ بہتر عمل ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن انسانی عقل اور درست معلومات کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔