World
زمبابوے کشتی حادثہ: جھیل کاریبا میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
زمبابوے میں جھیل کاریبا میں کشتی الٹنے کے واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مزید 23 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس حادثے میں اب تک کل 69 افراد کے لقمہ اجل بننے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
زمبابوے میں جھیل کاریبا کے مقام پر پیش آنے والے ایک المناک کشتی حادثے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ مقامی پولیس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امدادی ٹیموں نے گزشتہ روز مزید 23 لاشیں نکال لی ہیں، جس کے بعد اس افسوسناک واقعے میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی کل تعداد 69 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ منگل کے روز پیش آیا تھا جب ایک مسافر بردار کشتی، جو اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے تھی، پانی میں ڈوب گئی تھی۔
ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کشتی پر مسافروں اور سامان کی تعداد حد سے زیادہ تھی، جس نے کشتی کے توازن کو بگاڑ دیا اور وہ اچانک لہروں کے نذر ہو گئی۔ حادثے کے فوری بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا تھا جو کہ اب بھی جاری ہے۔ جھیل کاریبا میں پانی کی گہرائی اور موسم کی خرابی کے باعث غوطہ خوروں اور امدادی کارکنوں کو لاشوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
زمبابوے کے حکام نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کشتی رانی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ کرنے والے مالکان کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر افریقی ممالک میں نقل و حمل کے ذرائع کی حفاظت اور اوور لوڈنگ کے سنگین مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ مقامی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کس طرح ایک اوور لوڈڈ کشتی کو کھلے پانی میں جانے کی اجازت دی گئی۔
واقعہ کے بعد سے علاقے میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے اور لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں ملنے کے منتظر ہیں۔ جھیل کے ساحل پر امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں سے خاندانوں کو معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومتی ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران حفاظتی اصولوں کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دردناک حادثات سے بچا جا سکے۔