LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا زلزلہ: 47 افراد ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

News Image
انڈونیشیا میں آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ زلزلے سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث سیکڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
انڈونیشیا کے مشرقی حصوں میں آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 47 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ملبے تلے ابھی بھی کئی افراد دبے ہو سکتے ہیں اور دور دراز علاقوں تک امدادی ٹیموں کا پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ زلزلے کے بعد سے انڈونیشیا کی ہنگامی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور ملبے تلے دبے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد سیکڑوں رہائشی اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ میں تھا جس نے ساحلی علاقوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ماہرین ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیش نظر مقامی لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عالمی برادری اور امدادی تنظیموں نے بھی انڈونیشیا کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ یہ سانحہ انڈونیشیا کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے جو پہلے بھی قدرتی آفات کا شکار رہ چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کرنے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ ملبے سے لوگوں کو بحفاظت نکالنے اور زخمیوں کی جان بچانے پر مرکوز ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران انسانی جانوں کو بچانے کے لیے دن رات کی محنت جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔