Technology
امریکا کا ڈرونز پر 100 فیصد ٹیرف: چین کے خلاف نئی تکنیکی پالیسی
امریکا نے درآمدی ڈرونز اور ان کے پرزہ جات پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے ہیں جس کا مقصد غیر ملکی، بالخصوص چینی سپلائرز پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ یہ اقدام دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تکنیکی علیحدگی کی ایک اور کڑی ثابت ہو رہا ہے۔
امریکا نے حال ہی میں درآمدی ڈرونز اور ان کے کل پرزہ جات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مخصوص صلاحیتوں کے حامل اور وزنی ڈرونز پر 100 فیصد تک محصولات لاگو ہوں گے۔ واشنگٹن کا یہ اقدام چین پر انحصار کو کم کرنے اور ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کو فروغ دینے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی سلامتی اور سپلائی چین کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے تاکہ اہم ٹیکنالوجی کے لیے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
اس فیصلے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تکنیکی علیحدگی (Tech Decoupling) کی خلیج مزید گہری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں بھی امریکا نے سیمی کنڈکٹرز اور دیگر اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین پر پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم ڈرون مارکیٹ پر اس قسم کا بھاری ٹیکس یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا ڈرون ٹیکنالوجی میں چین کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر ڈرون مارکیٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی تجارت میں ایک نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
چین نے اس اقدام پر فوری طور پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ تجارتی ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے نہ صرف چینی بلکہ امریکی صارفین اور کاروباری اداروں کو بھی نقصان پہنچے گا جو ڈرونز کو زراعت، فوٹوگرافی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، امریکا کی یہ پالیسی طویل مدتی طور پر اپنی مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔ امریکی انتظامیہ اب ایسے ممالک کی تلاش میں ہے جو چین کے متبادل کے طور پر ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر سکیں، تاہم چین کی موجودہ پیداواری صلاحیت اور قیمتوں کا مقابلہ کرنا ایک مشکل چیلنج ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تجارتی جنگ مزید شعبوں تک پھیلتی ہے یا دونوں ممالک کسی درمیانی راستے پر متفق ہوتے ہیں۔