LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کا بحیرہ کیسپیئن حملہ، ایران کو کشیدگی سے خبردار کر دیا گیا

News Image
یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں اپنے حالیہ حملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف روسی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانا تھا۔ کیلیف نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کرے۔
کیلیف نے حالیہ دنوں میں بحیرہ کیسپیئن کے اندر کیے جانے والے ایک فوجی حملے کے بعد ایران کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنانے سے گریز کرے۔ یوکرین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد کسی بھی صورت میں عام بحری جہازوں یا شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ کارروائی کا واحد ہدف روسی جنگی جہاز تھے جو خطے میں سرگرم عمل تھے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بحیرہ کیسپیئن میں ہونے والی اس کارروائی کے بعد بین الاقوامی سطح پر سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں اور پڑوسی ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے روسی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس دوران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی پروٹوکول اور سلامتی کے اصولوں کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اور دیگر متعلقہ دارالحکومتوں کو اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے غلط فہمی یا اشتعال انگیزی سے بچنا چاہیے تاکہ علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بحیرہ کیسپیئن کے جغرافیا اور سیاسی اہمیت کے پیش نظر یہ حملہ ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ اس سے روس اور اس کے اتحادیوں کی سمندری حدود اور دفاعی حکمت عملی پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یوکرین نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے دفاع کی جنگ جاری رکھے گا اور کسی بھی تیسرے فریق کو بلاوجہ اس تنازع کا حصہ نہیں بننے دے گا۔ ایران کی جانب سے تاحال اس وارننگ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ کشیدگی کو ابتدائی سطح پر ہی روکا جا سکے اور خطے میں امن کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔