Business
چین کی زیرو ٹیرف پالیسی نائجیریا کی معاشی ترقی کے لیے گیم چینجر
چین کے سفیر یو ڈنہائی نے کہا ہے کہ افریقی ممالک کے لیے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی نائجیریا کی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھ رہا ہے اور نائجیریا کی برآمدات کو عالمی مارکیٹ تک رسائی میں آسانی ہوئی ہے۔
چین کے سفیر برائے نائجیریا یو ڈنہائی نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی جانب سے افریقی ممالک کے لیے متعارف کرائی گئی زیرو ٹیرف پالیسی نائجیریا کی معیشت کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت نائجیریا کی مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں بلا محصول داخلے کی اجازت ملنے سے نہ صرف دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نائجیریا کی برآمدات کو ایک نئی سمت بھی ملی ہے۔ سفیر موصوف کے مطابق یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ نائجیریا کے صنعتی شعبے کو پہنچا ہے، جہاں مقامی طور پر تیار کردہ اشیاء اب چینی مارکیٹ میں مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ٹیرف سہولت نائجیریا کی مقامی صنعتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی پیداوار بڑھانے کی ترغیب دے رہی ہے۔ صنعتی نمو کے اس عمل سے نائجیریا میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے مقامی معیشت میں استحکام آئے گا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔
ابوجا میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران سفیر یو ڈنہائی نے مزید کہا کہ چین نائجیریا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نائجیریا کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل اور محنتی افرادی قوت موجود ہے، اور چین کی تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری اس صلاحیت کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک اب ایسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے صنعتی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔
آخر میں، اس تعاون کا مقصد نہ صرف تجارتی توازن کو بہتر بنانا ہے بلکہ نائجیریا کو عالمی سپلائی چین میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرنے میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید تجارتی معاہدوں اور تکنیکی تعاون کی توقع ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ چین اور نائجیریا کے درمیان یہ بڑھتی ہوئی معاشی ہم آہنگی افریقہ کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو رہی ہے کہ کس طرح دوستانہ تجارتی پالیسیاں خطے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔