LIVE
Loading Breaking News...

اونڈو اسٹیٹ میں تعلیمی اداروں کے ملازمین کا احتجاج اور ہڑتال کا عندیہ

News Image
اونڈو اسٹیٹ کے سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین نے مطالبات کی منظوری کے لیے گورنر لکی اوریمیسن کو 14 روزہ الٹی میٹم دے دیا ہے۔ ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ اگر 2026 کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو ریاست گیر ہڑتال شروع کر دی جائے گی۔
نائیجیریا کی اونڈو اسٹیٹ میں سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کی تنظیموں نے ریاستی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے گورنر لکی اوریمیسن آئیداتیوا کو 14 روزہ الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت 2026 میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جس کے باعث تعلیمی اداروں کا نظم و نسق متاثر ہو رہا ہے۔ کارکنوں نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ 'مدر آف آل اسٹرائیکس' یعنی ایک بھرپور اور فیصلہ کن ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے ریاست بھر کا تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔ ملازمین کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ معاہدے برسوں کی جدوجہد اور مذاکرات کے بعد طے پائے تھے جن میں تنخواہوں کی ادائیگی، بہتر سہولیات اور بنیادی مراعات کی فراہمی شامل تھی۔ تاہم وقت گزرنے کے باوجود ان معاہدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بار بار یقین دہانیاں کروانے کے باوجود وعدہ خلافی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اساتذہ اور دیگر عملے میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس 14 روزہ مدت کو سنجیدگی سے نہ لیا تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی ہڑتال کا مطلب طلبہ کے تعلیمی سال کا ضیاع ہو گا، جو پہلے ہی مختلف معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ فی الحال گورنر آفس کی جانب سے اس الٹی میٹم پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت وقت ضائع کیے بغیر ملازمین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم اور تعلیمی تعطل کو روکا جا سکے۔ ملازمین نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ اپنی دہائیوں پر محیط خدمات کے صلے میں صرف وہی مطالبات منوانا چاہتے ہیں جو حکومتی دستاویزات میں پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں۔