LIVE
Loading Breaking News...

جوشوا کشنر کی جانب سے سلیکون ویلی میں اے آئی کے غیر حقیقی رجحانات پر تنقید

News Image
تھرائیو کیپیٹل کے بانی جوشوا کشنر نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سے سلیکون ویلی میں پھیلی بے جا خوش فہمی اور جوش و خروش پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے سرمایہ کار حقیقت سے ہٹ کر صرف مصنوعی رجحانات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
تھرائیو کیپیٹل کے بانی اور معروف سرمایہ کار جوشوا کشنر نے حال ہی میں اپنے پہلے سالانہ انویسٹر لیٹر میں ٹیکنالوجی کی دنیا، خاص طور پر سلیکون ویلی کے سرمایہ کاروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ کشنر کا ماننا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حوالے سے موجودہ دور میں جو بے پناہ خوش فہمی اور جوش و خروش پایا جاتا ہے، وہ کئی اعتبار سے غیر منطقی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ بہت سے وینچر کیپیٹلسٹ (VCs) محض مارکیٹ کے رجحانات کی اندھی تقلید کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی اصل افادیت کے بجائے صرف اس کے شور میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اپنے تفصیلی مراسلے میں جوشوا کشنر نے لکھا کہ سلیکون ویلی میں اس وقت ایک عجیب قسم کا جنون ہے جس میں ہر کوئی اے آئی کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے، چاہے اس کا بزنس ماڈل پائیدار ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب سرمایہ کار صرف ہائپ یا مارکیٹنگ کے شور کے پیچھے بھاگتے ہیں تو اس سے طویل مدتی نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ کشنر کے مطابق، ایک کامیاب سرمایہ کار کا کام صرف رجحانات کو دیکھنا نہیں بلکہ ان ٹیکنالوجیز کی تلاش کرنا ہے جو حقیقت میں انسانی زندگی اور کاروبار میں ٹھوس قدر پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اپنے حریف سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اس مصنوعی جوش سے باہر نکل کر زیادہ حقیقت پسندانہ انداز اختیار کریں۔ تھرائیو کیپیٹل کے بانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی اسٹارٹ اپس میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے کئی ماہرین اسے ایک 'ببل' یا بلبلہ قرار دے رہے ہیں۔ کشنر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ صرف اے آئی پر مبنی ہونا کسی بھی کمپنی کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بزنس کی بنیاد اور اس کا عملی استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو کمپنیاں صرف ٹیکنالوجی کے نام پر سرمایہ اکٹھا کر رہی ہیں، وہ مستقبل میں شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ آخر میں، جوشوا کشنر نے سرمایہ کاروں کو یاد دلایا کہ سرمایہ کاری کا بنیادی اصول ہمیشہ سے ہی پائیداری اور مستقل مزاجی رہا ہے۔ ان کے اس بیان نے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سلیکون ویلی واقعی اے آئی کے نام پر کسی بہت بڑے مالی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے یا نہیں۔ تھرائیو کیپیٹل کی جانب سے یہ تنقیدی تجزیہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں جذباتی فیصلوں کے بجائے گہرائی اور تحقیق کے ساتھ فیصلے کریں۔