LIVE
Loading Breaking News...

نوشہرہ پولیس مقابلہ: پشاور ہائیکورٹ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

News Image
پشاور ہائیکورٹ نے نوشہرہ کے ایک شہری کی گمشدگی اور مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کریں۔
پشاور ہائیکورٹ نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی پراسرار گمشدگی اور بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعے کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کریں اور ذمہ داران کا تعین کرکے عدالتی کارروائی کو یقینی بنائیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسی درخواست پر کیا گیا جس میں متاثرہ خاندان نے پولیس پر اپنے پیارے کو حراست میں لینے اور بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مذکورہ شخص کو غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا اور پھر اسے فرضی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ ہائیکورٹ کے جج نے سماعت کے دوران پولیس کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی پولیس کو کسی کی جان لینے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حراستی اموات اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کریں اور ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ دوسری جانب لواحقین نے عدالتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ انہیں انصاف ملے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے نہ صرف ان کے پیارے کی زندگی چھینی بلکہ انہیں انصاف کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ قانونی ماہرین کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کا یہ اقدام قانون کی حکمرانی کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے جس سے پولیس کے محکمے میں احتساب کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے انکوائری کے حکم کے بعد اب نوشہرہ پولیس پر سخت دباؤ ہے کہ وہ حقائق کو سامنے لائے اور اس افسوسناک واقعے کے محرکات کی وضاحت کرے۔ علاقے کے عوام اور سماجی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔ کیس کی آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔