LIVE
Loading Breaking News...

لیختینستائن میں شاہی جانشینی کے قوانین میں بڑی تبدیلی

News Image
وسطی یورپ کے چھوٹے سے ملک لیختینستائن نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے خواتین کو تخت کا وارث بننے کا حق دے دیا ہے۔ یہ اعلان ملکی قومی دن کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا۔
وسطی یورپ کے چھوٹے سے ملک لیختینستائن کی شاہی انتظامیہ نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ملکی آئین اور شاہی جانشینی کے قوانین میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت اب لیختینستائن کی شاہی خاندان کی خواتین کو بھی تخت نشینی کا قانونی حق حاصل ہوگا، جو اس سے قبل صرف مردوں تک محدود تھا۔ یہ فیصلہ ملکی روایتوں میں ایک نئی شروعات کی نوید ہے جس کا مقصد جدید دور کے تقاضوں کے مطابق صنفی مساوات کو فروغ دینا ہے۔ اس تاریخی اعلان کا موقع لیختینستائن کے قومی دن کے جشن کے دوران منتخب کیا گیا، جہاں ملکی قیادت نے 44 ہزار کی قلیل آبادی پر مشتمل اس ملک کے عوام کے سامنے یہ خوشخبری سنائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم طویل مشاورت کے بعد اٹھایا گیا ہے تاکہ شاہی تسلسل کو جدید جمہوری اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس تبدیلی سے شاہی خاندان کے اندر جانشینی کے معاملات میں خواتین کے کردار کو مستحکم کیا جائے گا اور انہیں مستقبل میں حکمرانی کے برابر مواقع میسر آئیں گے۔ واضح رہے کہ لیختینستائن جیسے روایتی اور چھوٹی آبادی والے یورپی ملک میں اس طرح کی تبدیلی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف شاہی نظام میں شفافیت لائے گا بلکہ دنیا بھر میں خواتین کے بااختیار ہونے کے حوالے سے ایک مثبت پیغام جائے گا۔ لیختینستائن کی حکومت اور شاہی دربار نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آنے والے وقتوں میں مزید ایسے اصلاحاتی اقدامات کریں گے جو ملکی ترقی اور سماجی ہم آہنگی میں مددگار ثابت ہوں۔ یہ تبدیلی ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے کیونکہ صدیوں سے رائج فرسودہ روایات اب بدل رہی ہیں۔ لیختینستائن کے عوام نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے اور اسے ایک ترقی پسندانہ قدم قرار دیا ہے۔ آئندہ کے برسوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس آئینی ترمیم کے بعد شاہی امور اور ملکی سیاست میں کس طرح کی نئی پیش رفت دیکھنے میں آتی ہے۔