LIVE
Loading Breaking News...

کیکو فوجیموری پیرو کی نئی صدر منتخب، جرائم کے خلاف سخت اقدامات کا عزم

News Image
کیکو فوجیموری نے ایک کڑے مقابلے کے بعد پیرو کے صدارتی عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے ملک میں جرائم کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔
پیرو کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے کیکو فوجیموری نے صدارتی انتخابات میں انتہائی معمولی مارجن سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر ملک کی صدارت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ الیکشن ملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ تنازع کا شکار اور قریبی مقابلوں میں سے ایک تھا، جس میں ووٹرز نے انتہائی منقسم رائے کا اظہار کیا۔ حلف برداری کی اس تقریب میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گہری دلچسپی دیکھی گئی، کیونکہ اس نتیجے نے پیرو کے سیاسی منظر نامے میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اپنے پہلے صدارتی خطاب میں کیکو فوجیموری نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملک سے قانون شکنی اور بدعنوانی کا صفایا کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں گی تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ان کے اس سخت گیر موقف اور پالیسیوں پر بعض حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے دورِ حکومت کی پالیسیوں کی بازگشت ان کے اقدامات میں سنائی دے سکتی ہے، جس سے ماضی کے تلخ ادوار کی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ فوجیموری کے یہ سخت اقدامات جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان تمام خدشات اور تنقید کے باوجود، کیکو فوجیموری کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد پرامید ہے کہ وہ ملک کو موجودہ اقتصادی اور سکیورٹی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوں گی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی صدر اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے اور ملک کے منقسم معاشرے کو ایک لڑی میں پرونے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔