LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک سی ای او کی اہلیہ کامی کلارک کا جیفری ایپسٹین سے تعلق

News Image
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی انتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی کی اہلیہ کامی کلارک ماضی میں جیفری ایپسٹین سے سرمایہ کاری کی درخواست کرنے کے باعث خبروں میں ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ کلارک اب انتھروپک کے کاروباری معاملات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں صف اول کی کمپنی ’انتھروپک‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی کی اہلیہ کامی کلارک ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، کامی کلارک ماضی میں بدنام زمانہ ملزم جیفری ایپسٹین سے اپنے ایک آن لائن پورن گرافی کے پروجیکٹ کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر چکی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ کامی کلارک اب خود انتھروپک کے کاروباری اور انتظامی امور میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کامی کلارک کی کاروباری سرگزشت کافی متنوع رہی ہے۔ انہوں نے انتھروپک کے عروج سے قبل کئی طرح کے کاروباری تجربات کیے جن میں سے زیادہ تر کامیاب نہیں ہو سکے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے اپنے ایک کاروباری منصوبے کے لیے جیفری ایپسٹین سے رابطہ کیا تھا تاکہ وہ اس میں مالی سرمایہ کاری کر سکیں۔ اگرچہ یہ منصوبہ ناکام رہا اور اس کی تفصیلات برسوں تک پردے میں رہیں، لیکن اب اس کے منظر عام پر آنے سے انتھروپک جیسے بڑے ادارے کے انتظامی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتھروپک، جو خود کو ایک محفوظ اور ذمہ دار اے آئی کمپنی کے طور پر پیش کرتی ہے، اس طرح کے ماضی کے حامل افراد کے اثر و رسوخ کے باعث اخلاقی بحث کا مرکز بن سکتی ہے۔ انتھروپک کمپنی، جو کہ 'کلود' (Claude) اے آئی ماڈل کی خالق ہے، اس وقت دنیا کی چند بڑی اے آئی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کامی کلارک اس کمپنی کے اندرونی معاملات میں کافی فعال ہیں اور ان کا اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ کمپنی کے اندرونی حلقوں کا ماننا ہے کہ کلارک کی کاروباری بصیرت اور ان کا نیٹ ورک انتھروپک کی ترقی میں معاون ثابت ہوا ہے، تاہم ان کے ماضی کے روابط اب کمپنی کی ساکھ کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اخلاقیات اور شفافیت سب سے اہم ستون ہیں۔ جب کمپنی کے کلیدی عہدیداران یا ان کے شریک حیات کا ماضی کسی متنازعہ شخصیت سے جڑا ہو، تو اس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ انتھروپک کی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ کہانی آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی انڈسٹری میں جاری کارپوریٹ بحث کو مزید ہوا دے گی۔