World
مراکش میں تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، سیوٹا سرحد پر سیکیورٹی الرٹ
مراکش کی سیکیورٹی فورسز نے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے درجنوں تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی افواہوں کے بعد سیکیورٹی سخت کیے جانے کے دوران عمل میں آئی ہے۔
شمالی افریقی ملک مراکش کی سیکیورٹی فورسز نے ہسپانوی علاقے سیوٹا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے درجنوں تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، حکام نے سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل انتہائی سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر مجاز داخلے کو روکا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس طرح کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ ہفتے کے روز بڑی تعداد میں تارکینِ وطن سرحد عبور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سیکیورٹی اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر سرحدی باڑ اور ارد گرد کے علاقوں میں گشت میں اضافہ کر دیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے اجتماع یا بے قاعدگی سے نمٹا جا سکے۔ سیوٹا اور میلیلا، جو کہ مراکش کے ساحل پر واقع ہسپانوی علاقے ہیں، طویل عرصے سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن کے لیے اہم راستے سمجھے جاتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد ان علاقوں کے ذریعے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اکثر جھڑپیں اور گرفتاریاں دیکھنے میں آتی ہیں۔
مراکش کے حکام نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اطلاعات کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا ان کی اولین ترجیح ہے، اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ سیوٹا کا یہ علاقہ اکثر تارکینِ وطن کے لیے ایک کشش رکھتا ہے، لیکن ہسپانوی اور مراکشی حکام کے مشترکہ تعاون سے یہاں سیکیورٹی کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنایا جاتا ہے۔ حالیہ گرفتاریاں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنا ہے۔ فی الحال متاثرہ علاقوں میں صورتحال پرسکون ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے الرٹ موڈ پر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔