LIVE
Loading Breaking News...

مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوٹا جانے کی کوشش ناکام، سو سے زائد افراد گرفتار

News Image
مراکشی پولیس نے سیوٹا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سو سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر چلائی گئی ایک مہم کے بعد پیش آیا جس میں لوگوں کو ہسپانوی انکلیو کی جانب جانے کی ترغیب دی گئی تھی۔
مراکش کی سیکیورٹی فورسز نے شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی علاقے سیوٹا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سو سے زائد تارکین وطن کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم کے ذریعے نوجوانوں اور تارکین وطن کو ترغیب دی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں جمع ہو کر ہسپانوی سرحد عبور کرنے کی کوشش کریں۔ مقامی حکام نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے سرحد پر گشت بڑھا دی تھی جس کی وجہ سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی نقل و حمل کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ سیوٹا میں داخلے کی یہ کوشش ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صرف چند ہفتے قبل سمندری راستے سے یورپ جانے والے کئی تارکین وطن حادثات کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ سمندری راستے انتہائی خطرناک ہونے کے باوجود معاشی مجبوریوں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بڑی تعداد میں تارکین وطن اکثر ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جن میں انسانی اسمگلرز بھی ملوث ہوتے ہیں۔ مراکش کی حکومت نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے اس بے بنیاد پروپیگنڈے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کو قانون کے مطابق کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مراکش اور سپین کے درمیان سرحدوں پر تارکین وطن کا دباؤ ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے معاہدے بھی موجود ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ان سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی کے لیے مراکش کو تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک میں روزگار اور پرامن حالات فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک سرحد پار کرنے کے ایسے واقعات کو مکمل طور پر روکنا ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔ فی الحال، مراکشی پولیس نے سیوٹا کی تمام داخلی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔