LIVE
Loading Breaking News...

امریکی دفاعی امداد اور اسرائیل کی عسکری ترقی کا جائزہ

News Image
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون جاری ہے جس میں 2016 میں دستخط شدہ اربوں ڈالر کا مفاہمت کا یادداشت نامہ بھی شامل ہے۔ یہ عسکری امداد خطے میں طاقت کے توازن اور اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون اور عسکری شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ واشنگٹن نے ہمیشہ تل ابب کو خطے میں عسکری برتری دلانے کے لیے بھرپور حمایت فراہم کی ہے۔ اس طویل المدتی شراکت داری میں 2016 کا وہ تاریخی مفاہمت کا یادداشت نامہ بھی شامل ہے جس کے تحت دس سالہ مدت کے دوران پینتیس ارب ڈالر سے زائد کی دفاعی امداد فراہم کی جانی تھی۔ اس امداد کا مقصد اسرائیل کی فضائی، زمینی اور سمندری دفاعی صلاحیتوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور ممکنہ خطرات کے خلاف دفاعی حصار کو مضبوط بنانا تھا۔ اکتوبر 2023 کے بعد کے حالات میں اس امریکی دفاعی امداد کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی دفاعی نظام کو مسلسل نئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ یہ فوجی ساز و سامان اور مالی معاونت اسرائیلی فوج کو جنگی تیاریوں اور جدید عسکری منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، امریکی تعاون کے بغیر اسرائیل کے لیے اتنے طویل اور پیچیدہ عسکری آپریشنز کو جاری رکھنا انتہائی دشوار ہوتا۔ اس طویل مدتی شراکت داری کے تحت جدید ترین لڑاکا طیارے، میزائل ڈیفنس سسٹمز اور انٹیلی جنس شیئرنگ میکانزم بھی اسرائیل کو منتقل کیے جا رہے ہیں، جو اس کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہیں۔ تاہم، اس عسکری امداد پر بین الاقوامی سطح پر بحث بھی جاری ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کے اثرات پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود واشنگٹن اور تل ابب کے درمیان دفاعی تعاون کی یہ زنجیر بدستور مضبوط چلی آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔