Politics
اسکاٹ لینڈ کے وزیر اعلیٰ کے خلاف اسرائیلی مہم: برطانوی حکومت کیوں خاموش؟
برطانوی حکومت نے اسکاٹ لینڈ کے حامیِ فلسطین وزیرِ اعلیٰ کے خلاف مبینہ اسرائیلی مہم کی تحقیقات کے نتائج ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
برطانیہ کی حکومت کو اس وقت شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ حکومت نے ایک ایسی اسرائیلی 'انفارمیشن وارفیئر' فرم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس پر اسکاٹ لینڈ کے حامیِ فلسطین وزیرِ اعلیٰ کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ اس معاملے نے برطانوی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا غیر ملکی طاقتیں اور نجی کمپنیاں کس طرح برطانیہ کے اندرونی معاملات اور سیاسی رہنماؤں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں۔ مبینہ طور پر یہ فرم انتخابی عمل میں اثر انداز ہونے اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے معروف ہے، تاہم برطانوی وزارتِ داخلہ نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے کی تفصیلات کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔
اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ اسکاٹ لینڈ کے وزیرِ اعلیٰ، جو فلسطین کے معاملے پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں، ان کے خلاف منظم طریقے سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر پروپیگنڈا کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک شخص کے خلاف مہم نہیں بلکہ برطانیہ کی جمہوریت میں بیرونی مداخلت کا ایک واضح نمونہ ہے جسے حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حکومت کا یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ اپنے اتحادی ملک اسرائیل کی کمپنیوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز کر رہا ہے، چاہے وہ عمل برطانیہ کی اپنی خودمختاری کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ میں کسی بھی غیر ملکی فرم کو سیاسی رہنماؤں کے خلاف منظم مہم چلانے کی اجازت دی جائے گی تو اس سے جمہوری اقدار کمزور ہوں گی۔ برطانوی حکومت کی خاموشی نے نہ صرف صحافتی حلقوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فی الحال، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس مہم کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، لیکن یہ واقعہ مستقبل میں برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات اور سائبر سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔