Business
شاپنگ مالز اور سنیما گھروں کا گہرا تعلق: کاروباری اثرات
موسم گرما کے دوران فلموں کی غیر معمولی کامیابی نے شاپنگ مالز کے مالکان کو سنیما گھروں کی اہمیت پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلمی شائقین کی بڑی تعداد مالز میں آنے والے گاہکوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
موسم گرما کے دوران فلمی دنیا میں دیکھنے میں آنے والی غیر معمولی ہلچل نے تجارتی مراکز یعنی شاپنگ مالز کے مالکان کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا سنیما گھر اب بھی ان کے لیے ایک بہترین 'اینکر کرایہ دار' ثابت ہو سکتے ہیں۔ 'دی اوڈیسی' جیسی بڑی فلموں نے شائقین کی بڑی تعداد کو سنیما گھروں کا رخ کرنے پر مجبور کیا، جس کے براہ راست اثرات شاپنگ مالز کی مجموعی کارکردگی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ تفریح اور شاپنگ کا امتزاج کس طرح لوگوں کو مالز میں زیادہ وقت گزارنے کے لیے راغب کرتا ہے۔
ماضی میں یہ خدشات موجود تھے کہ آن لائن اسٹریمنگ سروسز کے دور میں سنیما گھروں کی اہمیت کم ہو جائے گی، تاہم حالیہ اعداد و شمار نے ان مفروضوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ جب کسی فلم کو دیکھنے کے لیے ٹکٹوں کی بھاری طلب پیدا ہوتی ہے، تو مال کے دیگر کاروبار، بشمول ریستوران اور فیشن برانڈز، بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ خریدار، جو فلم دیکھنے آتے ہیں، اکثر فلم کے بعد خریداری یا کھانے پینے کے لیے مال میں رکتے ہیں، جس سے مال کی 'فٹ فال' میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
مالکان اب سنیما گھروں کو محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ کسٹمرز کو برقرار رکھنے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں مالز اور سنیما گھروں کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، کیونکہ یہ ماڈل صارفین کو ایک چھت کے نیچے مکمل تجربہ فراہم کرتا ہے۔ نئی حکمت عملیوں کے تحت، مالز اب سنیما گھروں کے ساتھ مل کر خصوصی آفرز متعارف کروا رہے ہیں تاکہ گاہکوں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ یہ پیش رفت ریٹیل اور تفریحی صنعت کے درمیان تعلق کو ایک نئی جہت عطا کر رہی ہے۔