World
کینیڈا: امریکی سفیر کی ملک بدری کے لیے عوامی پٹیشن پر لاکھوں دستخط
کینیڈا میں ایک عوامی پٹیشن کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے جس میں امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں اور یہ معاملہ کینیڈین پارلیمنٹ میں زیر بحث آئے گا۔
کینیڈا میں حالیہ دنوں کے دوران ایک عوامی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے جس کے تحت شہریوں کی ایک بڑی تعداد امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس آن لائن پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ پالیسیوں کے خلاف کینیڈین عوام میں پائے جانے والے شدید غم و غصے اور بے چینی کا عکاس سمجھا جا رہا ہے۔ عوام کا یہ مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور امریکی خارجہ امور کے حوالے سے کینیڈا کے شہریوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس پٹیشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب یہ معاملہ کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی 'ہاؤس آف کامنز' میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کینیڈین قوانین کے مطابق، جب کسی پٹیشن پر اتنی بڑی تعداد میں دستخط جمع ہو جائیں تو پارلیمنٹ اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میں ارکان اس موضوع پر تفصیلی بحث کریں گے، جس سے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال کینیڈا کی موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع نے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس عوامی مطالبے کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پٹیشن محض ایک سیاسی اظہار نہیں بلکہ اس بات کا عکاس ہے کہ کینیڈین عوام اپنے ملک کی خودمختاری اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر کتنا حساس ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کینیڈا کی پارلیمنٹ اس دباؤ کا مقابلہ کیسے کرتی ہے اور آیا یہ معاملہ سفارتی سطح پر کسی بڑے تنازعے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔