Business
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، ریٹیل شعبے کی مایوس کن کارکردگی
امریکہ میں ریٹیل فروخت کی کمزور رپورٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ اپنے بلند ترین لیول سے نیچے آ گئی ہے۔ ڈاؤ جونز انڈیکس میں 107 پوائنٹس کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ نے جمعہ کے روز اپنے بلند ترین لیول سے پیچھے ہٹتے ہوئے مندی کا رجحان ظاہر کیا ہے۔ یہ گراوٹ معیشت کے بارے میں آنے والی تازہ ترین رپورٹ کے بعد دیکھی گئی ہے جس میں ریٹیلرز کے ہاں صارفین کے اخراجات توقع سے کہیں زیادہ کم رہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس رپورٹ کو معاشی سست روی کی علامت کے طور پر لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مارکیٹ کے مجموعی رجحان میں تبدیلی آئی ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ڈاؤ جونز انڈیکس میں 107.58 پوائنٹس یعنی 0.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد یہ انڈیکس 53,732.41 کی سطح پر بند ہوا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب سرمایہ کار معیشت کے مستقبل اور صارفین کی قوت خرید کے حوالے سے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ ریٹیل سیکٹر کے کمزور اعداد و شمار نے مارکیٹ کے شرکاء کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا صارفین کی طلب میں کمی کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ گراوٹ بہت بڑی نہیں ہے، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی معیشت اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات اور افراط زر سے متعلق اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ریٹیل فروخت میں کمی کا براہ راست اثر بڑی کمپنیوں کے شیئرز پر پڑا ہے اور سرمایہ کاروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلی کرنا شروع کر دی ہے۔
آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کا مستقبل دیگر اہم معاشی اشاریوں پر منحصر ہوگا۔ اگر صارفین کی قوت خرید میں بہتری کے آثار نظر آئے تو مارکیٹ دوبارہ بحال ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ پیدا کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا یہ مختصر پسپائی کا رجحان دراصل معیشت کے ٹھوس اعداد و شمار کے انتظار میں ایک وقتی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔