LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ: شفافیت کے دعوے اور ریکارڈز کی پردہ پوشی

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو تاریخ کا سب سے شفاف صدر قرار دیے جانے کے باوجود ان کی انتظامیہ پر سرکاری ریکارڈز تک رسائی محدود کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شفافیت کے بلند و بانگ دعووں کے برعکس انتظامیہ اب نئے طریقوں سے اہم معلومات کو عوام اور میڈیا سے پوشیدہ رکھ رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2019 میں ایک بیان کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے سب سے شفاف صدر ہیں، اور یہ جملہ ان کے دور اقتدار کے دوران مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ان کی انتظامیہ کی کارکردگی اور معلومات کے حصول کے عمل پر گہرے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین اور صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے شفافیت کے وعدوں کے برعکس معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے نئے اور پیچیدہ طریقہ کار وضع کر لیے ہیں، جن سے عوامی احتساب کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انتظامیہ کے ترجمانوں کی جانب سے شفافیت کے بار بار اعلانات کے باوجود حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری اداروں میں ریکارڈز کی فراہمی میں طویل تاخیر، اہم دستاویزات کو قومی سلامتی یا استحقاق کی بنیاد پر 'کلاسیفائیڈ' قرار دے کر چھپانا، اور آزادیِ اطلاعات کے قوانین (FOIA) کے تحت درخواستوں کو بلاوجہ التوا میں ڈالنا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف شفاف حکومت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے جمہوریت میں عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ محکمے تکنیکی قانونی رکاوٹیں کھڑی کر کے صحافیوں اور محققین کو سرکاری ریکارڈ تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ کئی معاملات میں ایسی معلومات کو بھی حساس قرار دے دیا جاتا ہے جن کا براہِ راست قومی مفاد یا سیکورٹی سے تعلق نہیں ہوتا، صرف اس لیے کہ وہ سیاسی طور پر انتظامیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ عمل ایک ایسے معاشرے کے لیے تشویشناک ہے جہاں شفافیت کو جمہوریت کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ آخر میں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ یہ حکمتِ عملی ایک وسیع تر بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب تک حکومتیں اپنے کاموں کا جوابدہ نہیں ہوں گی اور ریکارڈز کو خفیہ رکھنے کے بہانے تلاش کرتی رہیں گی، تب تک جمہوریت کے دعوے بے معنی رہیں گے۔ عوام اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ شفافیت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے، تاکہ جمہوری اقدار کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔