World
میڈیسن اسکوائر گارڈن: صارفین کی فیشل ریکگنیشن پر پابندی کا مطالبہ
نیویارک میں میڈیسن اسکوائر گارڈن سمیت نجی اداروں کی جانب سے صارفین کے چہروں کی اسکیننگ پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کو وسیع حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ اور سٹی کونسل کی اکثریت اس اقدام کی حامی نظر آتی ہے۔
نیویارک شہر میں میڈیسن اسکوائر گارڈن اور دیگر نجی اداروں کی جانب سے صارفین کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ایک نئی مجوزہ قانون سازی کے تحت نجی کاروباروں کو اس بات سے روکا جائے گا کہ وہ اپنے گاہکوں کے چہروں کی اسکیننگ کر سکیں یا ان کی نجی معلومات کو نگرانی کے لیے استعمال کریں۔ اس بل کو اب میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سٹی کونسل کی بھاری اکثریت کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے، جس سے اس کے قانون بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیسن اسکوائر گارڈن طویل عرصے سے اپنے 'سرویلنس ایمپائر' یا نگرانی کے نظام کے لیے تنقید کی زد میں رہا ہے۔ انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے آنے والے مہمانوں کی نگرانی کرتی ہے، جو کہ شہریوں کی پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ قانون سازوں کا موقف ہے کہ عوامی مقامات پر اس طرح کی سخت نگرانی سے نہ صرف لوگوں کی آزادی سلب ہوتی ہے بلکہ ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال کا خدشہ بھی برقرار رہتا ہے۔
بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ سٹی کونسل میں ہونے والی حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سیاستدان اب عوامی دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی من مانی کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو نیویارک کے تمام نجی اداروں کو صارفین کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے حصول اور اسکیننگ کے سخت طریقہ کار سے گریز کرنا ہوگا، بصورت دیگر انہیں بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس بل پر حتمی ووٹنگ کی جائے گی۔ اگر یہ قانون منظور ہوتا ہے تو یہ امریکہ بھر میں نجی سیکٹر کی نگرانی کے خلاف ایک اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن کے ترجمان کی جانب سے فی الحال اس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے عوام کی جیت قرار دیا ہے۔