Business
تعمیراتی شعبے کی بحالی: حکومت کی نئی اصلاحات کا اعلان
وفاقی حکومت نے ملکی تعمیراتی شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے جامع اصلاحات کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے جو تعمیراتی معیار اور ریگولیشن کی نگرانی کرے گا۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے تعمیراتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس میں شفافیت لانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس شعبے کو درپیش چیلنجز اور ان کے تدارک کے لیے تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تعمیراتی شعبے میں اصلاحات نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو تیز کریں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس اہم اجلاس کے دوران تعمیراتی شعبے کو درپیش مشکلات کا احاطہ کیا گیا اور ایک ایسے جامع پیکیج کی ضرورت پر زور دیا گیا جس سے نہ صرف نجی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو بلکہ تعمیرات کے معیار کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے ایک خود مختار ادارے 'کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ' (CIDB) کے قیام کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بورڈ تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے نئے معیارات طے کرنے، ان کی نگرانی کرنے اور لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ علاوہ ازیں، تعمیراتی پیکیج کے ذریعے ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس شعبے سے وابستہ چھوٹے اور بڑے کاروباری افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اصلاحاتی عمل کا مقصد تعمیراتی شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ پاکستان کی تعمیراتی صنعت عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکے۔ وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے تیار کردہ اس حکمت عملی کے تحت تعمیراتی قوانین کی تجدید اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان اصلاحات پر بروقت اور شفاف انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف تعمیراتی لاگت میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ منصوبوں کی تکمیل کی رفتار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان اقدامات کو ملکی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔