LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ بیسنٹ کی ایران مخالف اقتصادی پالیسیوں کا ممکنہ خاکہ

News Image
نومنتخب امریکی انتظامیہ کے ممکنہ معاشی مشیر اسکاٹ بیسنٹ ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں اور تیل کی ترسیل کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ایران پر مالیاتی دباؤ ڈال کر اسے عالمی تجارت سے الگ تھلگ کرنا ہے۔
امریکی صدارتی انتظامیہ کے متوقع معاشی مشیر اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کو عالمی معیشت سے تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عالمی سطح پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس نئی پالیسی کا مرکز ایران کے خلاف انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں اور ان کا نفاذ ہے، جس کا مقصد تہران کو مالیاتی طور پر مفلوج کر کے اس کے جوہری اور علاقائی عزائم کو محدود کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ایرانی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنے کے لیے بحری راستوں کی سخت نگرانی اور ان جہازوں کے خلاف کارروائی کی تجویز دی گئی ہے جو ایرانی تیل کی نقل و حمل میں ملوث ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، امریکی سینٹ کام کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر ناکہ بندی کے اشارے دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل کر دیے گئے ہیں اور کئی جہازوں کو اپنی کارروائیاں معطل کرنی پڑی ہیں۔ خارگ جزیرے پر تیل کی لوڈنگ کے حوالے سے تضادات سامنے آئے ہیں، لیکن امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران پر 'غیر معینہ مدت' کے لیے اقتصادی گھیراؤ وقت کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خطے میں بڑھتا ہوا یہ کشیدگی کا ماحول توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو ایران کو بین الاقوامی بینکنگ نظام سے مکمل طور پر منقطع کرنا ہے۔ اگر اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو ایران کے لیے اپنی برآمدات سے زرمبادلہ کمانا ناممکن ہو جائے گا، جس سے مقامی معیشت پر ناقابل تلافی بوجھ پڑے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی پہلے بھی آزمائی جا چکی ہے، جس کے اثرات کے بارے میں عالمی برادری منقسم ہے۔ ایک طرف امریکہ ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی جنگوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہے، تو دوسری جانب یہ پالیسی عالمی توانائی کے بحران کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسکاٹ بیسنٹ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اس مالیاتی گھیراؤ کو کتنی مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔