LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے خلاف 'بین دی اسکین' مہم

News Image
نیویارک کے قانون سازوں اور پرائیویسی کے حامیوں نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عوام کی نجی زندگی اور شہری آزادیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
نیویارک سٹی کے حکام، پرائیویسی کے علمبرداروں اور فنکاروں نے ایک مشترکہ مہم کے تحت میڈیسن اسکوائر گارڈن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد ایک نئی قانون سازی کرنا ہے جس کے ذریعے عوامی مقامات اور نجی مقامات، خاص طور پر مشہورِ زمانہ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے۔ 'بین دی اسکین' (Ban the Scan) نامی اس تحریک کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نگرانی کرنا بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ میڈیسن اسکوائر گارڈن جیسے مقامات پر جانے والے ہزاروں افراد کا ڈیٹا اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بغیر کسی اجازت کے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیٹا کی حفاظت اور اس کے غلط استعمال کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو محدود نہ کیا گیا تو یہ نیویارک کے شہریوں کی نقل و حرکت اور نجی زندگی کو مکمل طور پر مانیٹر کرنے کا ذریعہ بن جائے گی، جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ نیویارک کی سٹی کونسل کے کچھ قانون سازوں نے اس معاملے پر قانون سازی کا عمل شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر جب بات عوامی جگہوں کی ہو جہاں لوگ تفریح یا موسیقی کے پروگراموں میں شرکت کے لیے جاتے ہیں۔ اس مہم کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ نیویارک سٹی کے تمام عوامی مقامات پر 'فیشل ریکگنیشن' ٹیکنالوجی کے استعمال کو قانونی طور پر ممنوع قرار دیا جائے تاکہ شہریوں کی نجی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس صورتحال کے حوالے سے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس قانون سازی کے حق میں ایک باقاعدہ مسودہ پیش کریں گے جس پر کونسل میں بحث کی جائے گی۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن انتظامیہ نے اس پر تاحال کوئی تفصیلی موقف نہیں دیا ہے، تاہم عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تحریک اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں شہریوں کی ذاتی رازداری کا تحفظ ایک اہم سیاسی اور سماجی مسئلہ بن کر ابھر رہا ہے جس پر جلد قانون سازی انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔