LIVE
Loading Breaking News...

اوریکل ڈیٹا سینٹر: نیو میکسیکو منصوبے میں گیس پائپ لائن کی وجہ سے تاخیر

News Image
ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کی جانب سے نیو میکسیکو میں تعمیر کیے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹر کا منصوبہ ایک نئی رکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ رکاوٹ 17 میل طویل گیس پائپ لائن بچھانے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تکنیکی و قانونی مسائل کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کا نیو میکسیکو میں قائم ہونے والا وسیع و عریض ڈیٹا سینٹر کا منصوبہ اب ایک بڑی مشکل کا سامنا کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 17 میل طویل گیس پائپ لائن کی تنصیب ہے، جس کی وجہ سے ڈیٹا سینٹر کی تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ اس منصوبے کو نہ صرف تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ مقامی سطح پر منظوریوں کے مراحل بھی اس کی ٹائم لائن کو متاثر کر رہے ہیں۔ ڈیٹا سینٹرز جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے توانائی کی بلاتعطل فراہمی لازمی ہوتی ہے، اور اسی مقصد کے لیے گیس پائپ لائن کو اس پروجیکٹ کا اہم جزو قرار دیا گیا تھا۔ اس صورتحال نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا ہے، جہاں بڑے پروجیکٹس کو بروقت مکمل کرنا ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تاخیر نہ صرف منصوبے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اوریکل کی انتظامیہ اب اس مسئلے کے حل کے لیے مقامی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پائپ لائن کی تنصیب کو یقینی بنا کر ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کو دوبارہ معمول پر لایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کی صنعت میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بڑی مقدار میں ڈیٹا کو پراسیس کرنے کی ضرورت ہے۔ اوریکل کا یہ نیو میکسیکو پروجیکٹ کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد اپنے نیٹ ورک کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ تاہم، پائپ لائن کے تنازع نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے صرف ٹیکنالوجی ہی کافی نہیں، بلکہ جغرافیائی اور ماحولیاتی تقاضوں کو پورا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اوریکل اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کون سا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے تاکہ پروجیکٹ کو مزید تاخیر سے بچایا جا سکے۔