LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کی نئی تقرری: ڈالی راجک چیف ریونیو آفیسر بن گئے

News Image
اوپن اے آئی نے کاروباری ترقی کو تیز کرنے کے لیے سابق وز ایگزیکٹو ڈالی راجک کو اپنا نیا چیف ریونیو آفیسر مقرر کیا ہے۔ وہ کمپنی کی عالمی سطح پر آمدنی بڑھانے کی حکمت عملیوں کی قیادت کریں گے۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کی معروف ترین کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) نے ایک اہم انتظامی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے سابق 'وز' (Wiz) ایگزیکٹو ڈالی راجک کو اپنا نیا چیف ریونیو آفیسر (CRO) مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کا مقصد کمپنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی کاروباری ضروریات کو پورا کرنا اور آمدنی کے ذرائع کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ ڈالی راجک اپنی نئی ذمہ داریوں کے تحت اوپن اے آئی کی عالمی ریونیو آرگنائزیشن کی قیادت کریں گے اور کمپنی کے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، ڈالی راجک کا بنیادی کام ایک ایسا جامع ریونیو آپریٹنگ سسٹم تشکیل دینا ہوگا جو کمپنی کو اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق اسکیل کرنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اوپن اے آئی اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کو کمرشل سطح پر بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ راجک کا تجربہ کمپنی کے لیے کاروباری حکمت عملیوں کو بہتر بنانے میں انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ ڈالی راجک اس سے قبل سیکیورٹی اسٹارٹ اپ 'وز' کے ساتھ بطور صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر وابستہ رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے کمپنی کی نمایاں ترقی میں اہم خدمات انجام دیں۔ اب اوپن اے آئی میں شمولیت کے بعد، ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کمپنی کے عالمی سیلز اور ریونیو ٹیموں کو ایک نئی سمت دیں گے۔ اوپن اے آئی کا ہدف ہے کہ وہ نہ صرف انفرادی صارفین بلکہ بڑے کارپوریٹ اداروں کے لیے بھی اپنی خدمات کو مزید منافع بخش بنائے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈالی راجک کا تقرر اوپن اے آئی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کا مسابقتی ماحول سخت ہو رہا ہے، ایک تجربہ کار ریونیو لیڈر کی موجودگی کمپنی کو مالی طور پر زیادہ پائیدار اور مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔ اوپن اے آئی اب اپنی توجہ مکمل طور پر اس بات پر مرکوز کر رہی ہے کہ کیسے اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی منڈیوں میں ایک کامیاب کاروباری ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔