LIVE
Loading Breaking News...

ٹریڈ وائف کلچر اور انسانی صحت: کیا سوشل میڈیا کا یہ رجحان حقیقت ہے؟

News Image
مشہور ناول 'یسٹر ایئر' سوشل میڈیا پر وائرل 'ٹریڈ وائف' کے رجحان اور اس کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ رجحان جدید دور کی مصروفیت سے فرار کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس کی جسمانی و ذہنی قیمت بھی ہے۔
سال 2026 کے سب سے زیادہ زیر بحث ناول 'یسٹر ایئر' (Yesteryear) نے سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر تیزی سے مقبول ہونے والے 'ٹریڈ وائف' (Tradwife) رجحان کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ یہ رجحان بنیادی طور پر ایک ایسے دیہی اور روایتی طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے جہاں خواتین گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے روایتی کاموں، مثلاً روٹی پکانے، کھیتی باڑی اور گھریلو امور کو ترجیح دیتی ہیں۔ بیلرینا فارم جیسی معروف انفلوئنسرز نے اس طرز زندگی کو ایک رومانوی اور پرسکون تصویر کے طور پر پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ تاہم، یہ کتاب اس رجحان کے پیچھے چھپے ان گہرے سوالات کو اٹھاتی ہے جن کا تعلق انسانی صحت سے ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، سوشل میڈیا پر نظر آنے والی یہ 'کامل زندگی' اکثر حقیقت سے دور ہوتی ہے۔ جب لوگ اس پرفیکٹ تصویر کو اپنی اصلی زندگی سے موازنہ کرتے ہیں تو ان میں ذہنی تناؤ اور عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ 'ٹریڈ وائف' کلچر بظاہر ایک پرسکون زندگی کی نوید دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی مشقت اور سماجی تنہائی کے اثرات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ناول میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جدید دور کی تیز رفتار زندگی سے فرار حاصل کرنے کی خواہش تو درست ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر کسی کے لیے صحت مند ثابت ہو۔ طبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ رجحان ایک طرح کی 'دیہی رومانیت' ہے جو جسمانی محنت کو تو فروغ دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماجی دباؤ اور صنفی کرداروں کی سختی بھی بڑھاتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے سادہ زندگی کا انتخاب کرتا ہے تو وہ پرسکون ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ صرف سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے یا کسی ٹرینڈ کی تقلید کے لیے کیا جا رہا ہے، تو یہ ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 'یسٹر ایئر' ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے انتخاب کے لیے کسی آن لائن رجحان کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی حقیقی ضروریات اور ذہنی سکون کو ترجیح دیں۔ مجموعی طور پر، یہ ناول نہ صرف ایک کہانی ہے بلکہ موجودہ عہد کے ڈیجیٹل دور میں انسان کی شناخت کے بحران کی عکاسی بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے انفلوئنسرز کی چکا چوند زندگی کے پیچھے چھپے حقائق اور ان کے صحت پر اثرات پر غور کرنا آج کے دور میں بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر تصویر حقیقت نہیں ہوتی، اور صحت مند زندگی کا انحصار توازن اور خود آگاہی میں مضمر ہے، نہ کہ کسی مخصوص طرز زندگی کی نقل کرنے میں۔