LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت میں چین بمقابلہ امریکا: واشنگٹن کا عالمی ممالک پر دباؤ

News Image
امریکا نے متعدد ممالک کو خبردار کیا ہے کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین اور امریکا میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی سلامتی اور ڈیٹا کے تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے درجنوں ممالک کو ایک سخت پیغام دینے کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں انہیں خبردار کیا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے عالمی مقابلے میں انہیں امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک تکنیکی میدان نہیں رہا بلکہ یہ مستقبل کی عالمی طاقت اور قومی سلامتی کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو ممالک چینی ٹیکنالوجی اور اے آئی انفراسٹرکچر کو ترجیح دیں گے، انہیں امریکی نیٹ ورکس اور جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد چین کے تکنیکی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر امریکا کی برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔ امریکی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ چینی ساختہ اے آئی سسٹمز نہ صرف جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں بلکہ یہ حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے واشنگٹن اپنے اتحادی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ 'کلین نیٹ ورک' کے اصولوں کو اپنائیں اور چینی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیلی کام اور اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والی بڑی فرموں سے دور رہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کا یہ اقدام دنیا کو دو بڑے تکنیکی بلاکس میں تقسیم کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور سپلائی چین پر براہِ راست پڑیں گے۔ کئی ترقی پذیر ممالک، جو چین اور امریکا دونوں کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات رکھتے ہیں، اس صورتحال میں ایک مشکل سفارتی چیلنج کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان ممالک کے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی کٹھن ہوگا کہ آیا وہ امریکی تحفظ اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دیں یا پھر چین کی جانب سے فراہم کردہ سستی اور وسیع انفراسٹرکچر سے استفادہ جاری رکھیں۔ آنے والے مہینوں میں واشنگٹن اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سفارتی سطح پر دباؤ میں اضافہ کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے حکام مختلف دارالحکومتوں کا دورہ کریں گے تاکہ اسٹریٹجک شراکت داروں کو قائل کیا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں غیر جانبداری اب ممکن نہیں رہی۔ یہ کشیدگی آنے والے وقتوں میں عالمی ٹیکنالوجی کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے اور تکنیکی خود مختاری کی نئی جنگ کا آغاز کر سکتی ہے۔