Technology
روبوٹکس اور انسانی ساخت: کیا روبوٹس انسانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں؟
مشہور ماہر روبوٹکس روڈنی بروکس نے خبردار کیا ہے کہ انسانی شکل کے روبوٹس اپنی ظاہری ساخت کے ذریعے ذہانت اور صلاحیت کا جھوٹا تاثر دے سکتے ہیں۔ یہ انتباہ جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں انسان نما روبوٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ آج کل بہت سی کمپنیاں ایسے انسانی نما روبوٹس تیار کر رہی ہیں جو دیکھنے میں بالکل انسانوں جیسے لگتے ہیں۔ تاہم، معروف ماہر روبوٹکس روڈنی بروکس نے اس رجحان کے بارے میں ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی روبوٹ کی ظاہری شکل خود بخود یہ وعدہ کر لیتی ہے کہ وہ کتنا ذہین ہے اور کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نفسیاتی تاثر عام لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ روبوٹ کی صلاحیتوں کے بارے میں حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیں۔
روڈنی بروکس کے مطابق، انسانی ساخت کے روبوٹس اکثر ایک 'فریب' کی مانند ہوتے ہیں۔ جب کوئی روبوٹ انسان جیسا دکھائی دیتا ہے، تو صارفین لاشعوری طور پر یہ مان لیتے ہیں کہ یہ روبوٹ انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر روبوٹس محض پہلے سے طے شدہ پروگرامنگ کے مطابق کام کرتے ہیں اور ان میں انسانی شعور یا سمجھ بوجھ کا فقدان ہوتا ہے۔ ان کا خوبصورت اور انسانی انداز محض ڈیزائن کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد روبوٹ کی افادیت کو بڑھانا نہیں بلکہ اسے لوگوں کے لیے پرکشش بنانا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر کمپنیاں ان روبوٹس کی صلاحیتوں کے بارے میں شفافیت برقرار نہیں رکھیں گی، تو مستقبل میں غلط فہمیوں کا امکان بڑھے گا۔ گھروں میں کام کرنے والے روبوٹس ہوں یا فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے انسانی نما خودکار نظام، ان کا ڈیزائن ہمیشہ ان کے کام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بروکس کا یہ بیان ان ڈویلپرز کے لیے ایک اہم سبق ہے جو اپنی مصنوعات کو محض پرکشش بنانے کے لیے انسانی شکل و صورت کا سہارا لیتے ہیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ روبوٹ اور انسان کے درمیان فرق کیسے کیا جائے۔ کسی مشین کی ظاہری شکل اس کی اندرونی کمپیوٹنگ طاقت یا مصنوعی ذہانت کی پیمائش نہیں ہو سکتی۔ مستقبل میں روبوٹس کا انحصار ان کی کارکردگی اور سافٹ ویئر کی درستگی پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس بات پر کہ وہ انسانوں جیسے نظر آتے ہیں یا نہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ 'خوبصورت فریب' دراصل ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے جس پر مزید بحث اور تحقیق کی ضرورت ہے۔