LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی رپورٹ: بی ایل اے اور افغان گروہوں کا گٹھ جوڑ

News Image
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور افغانستان میں مقیم عسکریت پسند گروپوں کے درمیان ٹیکٹیکل تعاون کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان طالبان ان دہشت گرد گروہوں کے خطرے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین سیکیورٹی رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور افغانستان میں مقیم مختلف عسکریت پسند گروپوں کے درمیان ٹیکٹیکل تعاون اور گٹھ جوڑ میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعاون علاقائی امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی نیٹ ورک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ انتظامیہ ان دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرنے یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ افغان سرزمین، جو ماضی میں بھی غیر ریاستی عناصر کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اب مختلف گروہوں کے درمیان روابط بڑھانے کا مرکز بن گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، ان گروہوں کے مابین جدید اسلحہ کی نقل و حمل اور مربوط حملوں کی منصوبہ بندی نے سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ولی تنگی ڈیم پر ہونے والا حالیہ حملہ بھی اسی دہشت گرد نیٹ ورک کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے جو ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کے درپے ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں مقیم گروہ پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے پاکستان کے ان خدشات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ افغانستان کی موجودہ قیادت دہشت گردی کے انسداد کے لیے اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان گروہوں کے مابین ٹیکٹیکل تعاون کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کا سبب بنے گا، جس سے خطے کی معاشی ترقی اور امن و امان کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔