LIVE
Loading Breaking News...

عدالتی فائلنگ میں اے آئی پرامپٹ انجیکشن کا استعمال

News Image
عدالت میں ایک شہری کی جانب سے جمع کرائی گئی قانونی دستاویزات میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پرامپٹ انجیکشن کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے نے قانونی شعبے میں ٹیکنالوجی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حال ہی میں قانونی حلقوں میں ایک انتہائی عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ٹیکنالوجی اور عدالتی نظام کے درمیان تعلق کو ایک نئے تنازعہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک شہری، جو اپنی قانونی چارہ جوئی خود کر رہا تھا، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں اے آئی (AI) پرامپٹ انجیکشنز کو چھپانے کی کوشش کی۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس ہے جہاں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کسی بھی فیک کیس کے حوالے سے نہیں، بلکہ براہ راست عدالتی نظام کو دھوکہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل عدالتی شفافیت کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ اس سے قبل بھی وکلاء کی جانب سے اے آئی کے استعمال کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز میں جعلی قانونی حوالہ جات شامل تھے۔ تاہم پرامپٹ انجیکشن کا معاملہ ان تمام واقعات سے یکسر مختلف اور سنگین نوعیت کا ہے۔ پرامپٹ انجیکشن ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے کسی بھی اے آئی ماڈل کو دی گئی ہدایات کو ہیک کر کے اس سے مخصوص یا گمراہ کن نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب یہی تکنیک عدالتی دستاویزات میں استعمال کی جاتی ہے، تو اس کا مقصد عدالت کے عمل کو متاثر کرنا ہوتا ہے، جو کہ عدالتی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس انکشاف کے بعد، مذکورہ شہری نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ان ہی دستاویزات میں مزید پرامپٹ انجیکشنز کو چھپانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس رویے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ججوں کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ قانونی ماہرین اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق اور قوانین وضع کیے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل فراڈ سے بچا جا سکے۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کا استعمال عدالتی کارروائیوں میں کس قدر حساس ہو سکتا ہے۔ جہاں اے آئی وکلاء کی معاونت کر سکتا ہے، وہیں اس کا غلط استعمال انصاف کے عمل کو بھی دھندلا سکتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ عدالتی کارروائی کا حصہ ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے قانونی استعمال کے لیے ایک مثال بنے گا۔