World
یوکرین کا برطانوی ڈرونز سے روس پر حملہ اور برطانیہ میں بڑھتی موبائل چوری
برطانیہ میں چھپنے والے اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ یوکرین نے برطانیہ کے فراہم کردہ ڈرونز کو روسی اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی موبائل چوری کی وارداتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے اتوار کے اخبارات میں عالمی سیاست اور داخلی مسائل کے حوالے سے اہم رپورٹس شائع کی گئی ہیں جن میں یوکرین کی جانب سے برطانوی ساختہ ڈرونز کا روسی اہداف کے خلاف استعمال سر فہرست ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین نے جنگ کے دوران برطانیہ سے ملنے والے جدید ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے جس سے تنازعہ میں شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد کی فراہمی مسلسل جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق برطانوی ساختہ ڈرونز کا استعمال فوجی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں موبائل فون چوری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 230 موبائل فونز چوری کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہری زندگی کے تحفظ پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں اور پولیس کے نظام پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی اس موبائل چوری کی وبا کو منظم گروہوں کا کام سمجھا جا رہا ہے جو شہریوں کی قیمتی اشیاء کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنے موبائل فونز کے استعمال میں احتیاط برتیں اور سیکیورٹی فیچرز کو فعال رکھیں۔ حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم موجودہ صورتحال سے عوامی سطح پر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی سطح پر جنگی کشیدگی اور دوسری طرف اندرونِ ملک جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح نے برطانوی حکومت کے لیے چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آنے والے دنوں میں ان دونوں اہم موضوعات پر پارلیمنٹ میں بحث متوقع ہے تاکہ یوکرین کی مدد کے سفارتی اثرات اور داخلی جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔