LIVE
Loading Breaking News...

السرٹو کولائٹس کا علاج: منی گٹس ٹیکنالوجی سے نئی امید

News Image
محققین نے لیبارٹری میں تیار کردہ 'منی گٹس' یا انسانی آنتوں کے چھوٹے نمونوں کے ذریعے السر والی کولائٹس جیسی بیماریوں کے علاج کی امید پیدا کر دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مریضوں کے سیلز سے تیار کی گئی ہے جس سے ادویات کے اثرات کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔
ماہرینِ طب نے آنتوں کی سوزش اور دائمی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک جدید تحقیق کا آغاز کیا ہے، جس میں لیبارٹری کے اندر تیار کردہ 'منی گٹس' (Mini-guts) یعنی آنتوں کے چھوٹے نمونے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رونا سمرز نامی 12 سالہ لڑکا، جو طویل عرصے سے السرٹو کولائٹس (Ulcerative Colitis) جیسی تکلیف دہ بیماری کا شکار ہے، اس تحقیق کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کی بیماریوں کے باعث مریضوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور روایتی ادویات اکثر توقع کے مطابق نتائج نہیں دیتیں۔ محققین اب ان 'منی گٹس' کا استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مخصوص ادویات انسانی آنتوں کے ٹشوز پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ 'آرگنائیڈز' کہلانے والے نمونے اصل انسانی آنتوں کی نقل کرتے ہیں، جس سے تجربات کے دوران انسانی جسم کو خطرے میں ڈالے بغیر درست نتائج حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ کیوں کچھ مریض خاص ادویات کے لیے بہتر ردعمل دیتے ہیں جبکہ کچھ پر ان کا اثر نہیں ہوتا۔ یہ انفرادی علاج (Personalized Medicine) کی جانب ایک بڑا قدم ہے، کیونکہ ہر مریض کے سیلز سے تیار کردہ 'منی گٹ' اس کی بیماری کی مخصوص نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین پر امید ہیں کہ مستقبل میں یہ تحقیق ان مریضوں کے لیے زندگی بدلنے والی ثابت ہوگی جو سالوں سے ناکام علاج کے چکر سے گزر رہے ہیں۔ اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں لیبارٹری کے اندر مریض کے اپنے اسٹیم سیلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ڈاکٹرز مریض کو براہِ راست تجرباتی دوا دینے کے بجائے، پہلے لیب میں موجود 'منی گٹ' پر اس کا ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر نتیجہ مثبت آئے تو دوا کو مریض کو دیا جائے گا، جس سے علاج کے ضمنی اثرات (Side effects) کو کم کرنے اور وقت بچانے میں نمایاں مدد ملے گی۔ اگرچہ ابھی یہ طریقہ کار ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن طبی برادری اسے آنتوں کے امراض کے علاج میں ایک انقلابی پیشرفت قرار دے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف السرٹو کولائٹس بلکہ آنتوں کی دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے نئے دروازے کھلیں گے۔ رونا سمرز جیسے ہزاروں بچوں اور نوجوانوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایک دردِ سر بننے والی بیماری کو کنٹرول کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔